کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے G7 سربراہی اجلاس کے لیے اپنے ہم منصب نریندر مودی کو آخری لمحات میں دیے گئے دعوت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’’5ویں سب سے بڑی معیشت‘‘ اور دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو مدعو کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگرچہ پی ایم مودی کے پروگرام کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، تاہم توقع ہے کہ وہ 17 جون کو G7 آؤٹ ریچ سیشن کے لیے بروقت البرٹا پہنچ جائیں گے۔
کارنی نے کہا کہ G7 کے دیگر اراکین مودی کی شرکت کے خواہشمند ہیں۔ واضح رہے کہ جی 7 سربراہی اجلاس 15 جون کو شروع ہو رہا ہے۔مارک کارنی نے کہا کہ ’’G7 چیئر میں اور ان مباحثوں میں، جیسا کہ ہمارے G7 ساتھیوں کے ساتھ اتفاق کیا گیا ہے، ہم توانائی کی حفاظت، ڈیجیٹل مستقبل اور اہم معدنیات جیسے اہم مسائل کو حل کر رہے ہیں۔ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر دنیا میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں شراکت داری بھی ایجنڈا کا حصہ ہیں۔‘‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’’لہٰذا یہ واضح طور پر قابلِ فہم ہے کہ اس میں ہندوستان کو شامل کیا جائے، جو کہ دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے اور مؤثر طور پر سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور سپلائی چینز میں سے ایک کا مرکز ہے۔‘‘ واضح رہے کہ حال میں کینیڈا اور ہندوستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آگئی تھی، تاہم مارک کارنی کی اس دعوت کے بعد اس میں بہتری کی صورت نظر آ رہی ہے اور وزیر اعظم مودی کا اس دعوت کو قبول کرنا اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
تاریخی شیتلا ماتا مندر میں نوراتری کے دوران لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے…
کولکاتا درگا پوجا پنڈال حادثے پر پی ایم مودی اور امت شاہ نے تعزیت کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے گریٹر نوئیڈا میں دو خفیہ ڈرگ لیب کا پردہ…
16 سال پرانے رئیلٹی شو تنازع اور خودکشی کے لیے اکسانے کے معاملے میں جھانسی…
درگا پوجا کی خوشیوں کے درمیان سپتمی کی شام شمالی کولکاتا کے چورباگان سروجنین پوجا…
ایئر انڈیا نے اپنے بیان میں کہا، ’’موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئر انڈیا اور…