قومی

Maoist menace present in only 11 districts: وزیراعظم مودی اور وزیرداخلہ امت شاہ کی رہنمائی میں نکسل ازم پر بڑی کامیابی، نکسلی صرف 11 اضلاع تک ہوئے محدود

نئی دہلی: وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) سے متاثرہ اضلاع کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، جو اس سال کے آغاز میں 18 تھی اور اب گھٹ کر صرف 11 رہ گئی ہے۔ ان میں سے تین اضلاع چھتیس گڑھ کے بیجاپور، سکما اور نارائن پور کو سب سے زیادہ متاثرہ کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔

بھُوپتی سمیت 60 ماؤنواز کارکنوں کی خودسپردگی

بدھ کے روز مہاراشٹر کے گڑچرولی میں سی پی آئی (ماؤنواز) کے سینئر رہنما ملّوجولا وینوگوپال راؤ عرف بھُوپتی نے 60 دیگر کیڈرز کے ساتھ ریاست کے وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویش کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ وزارت داخلہ کے مطابق یہ اقدام اس سال نکسل مخالف کارروائیوں کی کامیابی کی علامت ہے، جن کے نتیجے میں نکسل ازم کے اثرات مسلسل گھٹتے جارہے ہیں۔

نکسل ازم کے خلاف ریکارڈ توڑ کارروائیاں

وزارت داخلہ نے بتایا کہ 2025 میں اب تک 312 نکسل کیڈرز ہلاک کیے گئے ہیں، جن میں سی پی آئی (ماؤنواز) کے جنرل سکریٹری اور آٹھ پولیٹ بیورو/مرکزی کمیٹی کے اراکین شامل ہیں۔ مزید 836 کیڈرز گرفتار کیے گئے جبکہ 1639 نے خودسپردگی کرکے قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی ہے۔ خودسپردگی کرنے والوں میں ایک پولیٹ بیورو اور ایک مرکزی کمیٹی کا رکن بھی شامل ہے۔

’نکسل فری انڈیا‘ کی سمت پیش رفت

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے ایکس پر کہا ’’مودی جی کے دہشت گردی سے پاک بھارت کے وژن کے تحت، انتھک انسداد بغاوت کارروائیاں اور عوام دوست ترقیاتی اقدامات بائیں بازو کی انتہا پسندی کے اثرات کو تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ 31 مارچ 2026 تک بھارت نکسل ازم کے خطرے سے مکمل طور پر آزاد ہو جائے گا۔‘‘

کثیر جہتی قومی ایکشن پلان کے نتائج

وزارت داخلہ نے وضاحت کی کہ نکسل ازم کے خلاف یہ کامیابیاں کثیر جہتی قومی ایکشن پلان اور پالیسی کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہیں۔ اس منصوبے میں ٹھوس خفیہ معلومات پر مبنی عوام دوست کارروائیاں، سکیورٹی خلا والے علاقوں پر فوری کنٹرول، ماؤنواز قیادت کو نشانہ بنانا، نظریاتی محاذ پر مقابلہ، تیز رفتار ترقیاتی منصوبے، مالی ذرائع کی بندش اور مرکزی و ریاستی سطح پر مربوط رابطہ کاری جیسے اقدامات شامل ہیں۔

گھٹ رہا ہے نکسل ازم کا دائرہ

وزارت نے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے 2010 میں نکسل ازم کو بھارت کا ’’سب سے بڑا داخلی سلامتی چیلنج‘‘ قرار دیا تھا۔ اب وزارت کے مطابق نکسل ازم ’’واضح طور پر پسپا‘‘ ہو رہا ہے۔ نکسلیوں نے ماضی میں نیپال کے پشوپتی سے آندھرا پردیش کے تروپتی تک ایک ’’ریڈ کاریڈور‘‘ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن 2013 میں جب 126 اضلاع میں نکسل تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، مارچ 2025 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 18 رہ گئی، جن میں سے اب محض تین کو ’سب سے زیادہ متاثرہ‘ ضلع تسلیم کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Tears in his eyes: آنکھوں میں آنسو، میسی کا ارجنٹینا کی جرسی میں الوداعی میچ کو دیا گیا دی لاسٹ ٹینگوکا نام

لیونل میسی نے ارجنٹینا کے لیے مجموعی طور پر 208 میچ کھیلے۔ اس دوران انہوں…

15 minutes ago

Triple Murder in Dehradun: دہرادون میں ٹرپل مرڈر، بزرگ جوڑے اور ملازمہ کے قتل سے سنسنی، پولیس نے ایک مشتبہ شخص گرفتار

پولیس کے مطابق، موقع پر پہنچی فورنسک ٹیم نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔…

38 minutes ago

Tragedy in Vrindavan: ورنداون میں دردناک حادثہ،گروکل کے 4 طلبہ کی موت، ایک کی حالت تشویشناک

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع مجسٹریٹ چندر پرکاش سنگھ اور ایس ایس پی موقع…

2 hours ago