قومی

Mamata’s Impact: ممتا گروپ کا جلوہ: سی ایم شوبھندو ادھیکاری کی حکومت میں بڑا الٹ پھیر، بی جے پی سے آگے نکلی ٹی ایم سی

مغربی بنگال میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے باوجود ریاست کی قانونی برادری میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں سیاسی شکست، پارٹی میں بڑے پیمانے پر دلبدل اور قانونی مقدمات کے درمیان ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مغربی بنگال بار کونسل کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے یکطرفہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے 23 میں سے 15 نشستوں پر قبضہ کر لیا، جبکہ ریاست میں برسراقتدار بی جے پی صرف 3 نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

کس پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں؟

مغربی بنگال بار کونسل انتخابات میں نشستوں کی پوزیشن اس طرح رہی:

ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی): 15 نشستیں

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی): 3 نشستیں

لیفٹ فرنٹ: 3 نشستیں

کانگریس: 2 نشستیں

خواتین کے لیے مختص 5 نشستوں میں سے 4 پر ٹی ایم سی نے کامیابی حاصل کی، جبکہ ایک نشست کانگریس کے حصے میں گئی۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت بار کونسل آف انڈیا خواتین امیدواروں میں سے مزید دو خاتون ارکان کو نامزد کرے گا، جس کے بعد کونسل کے ارکان کی مجموعی تعداد 25 ہو جائے گی۔

وکلا کے درمیان ممتا بنرجی کا اثر برقرار

اس انتخاب میں مجموعی طور پر 75 امیدوار میدان میں تھے۔ ان میں ٹی ایم سی کے 23، بی جے پی کے 22، لیفٹ فرنٹ کے 12 اور 18 آزاد امیدوار شامل تھے۔ٹی ایم سی لیگل سیل کے سبھاشیس چکرورتی سب سے بڑے فرق سے کامیاب ہونے والے امیدوار رہے۔ اس کے علاوہ ٹی ایم سی کے اہم امیدواروں میں بیشوانر چٹرجی، انصار منڈل، اشوک دیب، اندرنیل باسو اور سدھارتھ مکھرجی نے بھی کامیابی حاصل کی۔ٹی ایم سی لیگل سیل کے رکن سنجے بردھن کے مطابق، ریاست کی مختلف ضلعی عدالتوں میں پریکٹس کرنے والے وکلا نے اس انتخابی عمل میں حصہ لیا تھا۔ ان کے مطابق اسمبلی انتخابات میں سیاسی جھٹکے کے بعد بار کونسل پر ٹی ایم سی کا قبضہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دانشور اور قانونی برادری کے ایک حصے میں پارٹی کی زمینی گرفت اب بھی مضبوط ہے۔یہ نتیجہ ٹی ایم سی کے لیے اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ ریاستی اقتدار سے باہر ہونے کے بعد پارٹی کو سیاسی طور پر خود کو دوبارہ منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ بار کونسل انتخابات میں شاندار کامیابی نے پارٹی کو قانونی برادری کے درمیان اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ برقرار رکھنے کا ایک اہم اشارہ دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

1 hour ago

India vs New Zealand: تلک ورما بنے ٹیم انڈیا کے ہیرو، بھارت نے پھر کیا کمال، نیوزی لینڈ کو ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…

1 hour ago

Delhi School Incident: دہلی کے اسکول میں دردناک واقعہ، بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول کیمپس میں لگائی آگ، موقع پر ہی موت

دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…

2 hours ago

Priti Adani Calls For Skilled Talent: بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت ضروری: پریتی اڈانی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور…

2 hours ago