نئی دہلی: ملک کی کئی ریاستوں میں اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) سے متعلق جاری گھمسان کے درمیان، مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کو سپریم کورٹ سے دوہری مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ ایک طرف جہاں خود وکیل بن کرپیروی کرنے کی ان کی کوشش ناکام رہی۔ وہیں دوسری طرف الیکشن کمیشن (ای سی آئی) کے افسران کے خلاف ہو رہے تشدد اوردھمکیوں پر سپریم کورٹ نے بنگال حکومت کو سخت پھٹکارلگائی ہے۔
عمل میں رکاوٹ برداشت نہیں: سپریم کورٹ
چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاور جسٹس سوریہ کانت کی صدارت والی بینچ نے واضح کردیا کہ ایس آئی آر کے عمل پرکسی بھی طرح کی روک نہیں لگائی جاسکتی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ اس عمل میں کوئی بھی رخنہ اندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے ریاستوں کو وارننگ دی کہ اس جانچ عمل میں کسی بھی عمل کی رخنہ اندازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں ریاستوں کو اپنی طرف سے کسی بھی طرح کی مداخلت اندازی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن کے افسران پرحملہ
وہیں، سماعت کے دوران سالسٹرجنرل (ایس جی) اوردیگروکلا نے عدالت کوبتایا کہ بنگال میں الیکشن کمیشن کے افسران کوڈرایا جا رہا ہے اوران کے خلاف تشدد ہورہا ہے۔ اس پرعدالت نے سنگین رویہ اپناتے ہوئے بنگال کے ڈی جی پی کو اپنا ذاتی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہیں الیکشن کمیشن کے ذریعہ لگائے گئے الزامات اورسیکورٹی میں چوک پر وضاحت دینا ہوگا۔ عرضی گزاروں نے عدالت کوبتایا کہ سڑکوں پرتشدد ہورہا ہے اورپولیس ایف آئی آرتک درج نہیں کررہی ہے۔ یہاں تک کہ چیف الیکشن کمشنر(سی ای او) تک کونہیں بخشا گیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاورجسٹس سوریہ کانت کی بینچ نے واضح طورپرکہا کہ عمل میں کوئی بھی رخنہ اندازی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ووٹرلسٹ کی ڈیڈلائن بڑھائی گئی
وہیں، مغربی بنگال میں دستاویزات کی تصدیق اورحتمی ووٹرلسٹ کی اشاعت کے لئے 14 فروری کی آخری تاریخ میں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کوہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ فہرست میں شامل تمام 8,505 گروپ-بی افسران شام 5 بجے تک ڈیوٹی کے لئے رپورٹ کریں۔ کل الیکشن کمیشن کو یہ اختیارحاصل ہوگا کہ وہ موجودہ EROs/AEROs کو تبدیل کرے یا اہل پائے جانے پران کی خدمات برقراررکھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔