نئی دہلی: ملک بھر میں بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ اور سائبر فراڈ کے واقعات پر سپریم کورٹ نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ریزرو بینک آف انڈیا، تمام بینکوں اور مرکزی وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ دو جنوری 2026 سے ایک جامع اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پورے ملک میں نافذ کیا جائے، تاکہ شہریوں کو آن لائن دھوکہ دہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے پیر کو سماعت کے دوران واضح کیا کہ بینکوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صارفین کو بروقت الرٹ کرنے کا موثر نظام تیار کریں۔ عدالت نے کہا کہ ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ کے شکار افراد کی جانب سے اگر کسی بڑے مالی لین دین کی کوشش کی جا رہی ہو تو بینکوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایسے ٹرانزیکشنز روکیں اور تصدیق کے بعد ہی آگے بڑھنے کی اجازت دیں۔
عدالت نے آر بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ جاری کنندہ بینکوں کی سطح پر مناسب کارروائی کے لیے واضح رہنما اصول طے کرے۔ ساتھ ہی وزارت داخلہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اس ایس او پی کو دو جنوری 2026 سے نافذ کرے اور اسے پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بین الادارہ جاتی تال میل اور فراڈ کے متاثرین کی بروقت شناخت کے لیے یہ اقدام نہایت ضروری ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ ایس او پی سے متعلق ضوابط کو دو ہفتوں کے اندر نوٹیفائی کیا جائے، جبکہ مختلف اداروں کے درمیان تال میل کے لیے مفاہمتی یادداشت کا مسودہ چار ہفتوں کے اندر تیار کیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ جب تک تمام متعلقہ ایجنسیاں ایک ساتھ کام نہیں کریں گی، تب تک سائبر جرائم پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
چیف جسٹس سوریاکانت نے سماعت کے دوران سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بینک آہستہ آہستہ ایک بوجھ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ عوام کے پیسے کے محافظ ہیں، محض کاروباری ادارے نہیں۔ اس اعتماد کو کسی بھی قیمت پر ٹوٹنے نہیں دیا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کئی معاملات میں یہی بینک دھوکہ باز عناصر کو قرض فراہم کرتے ہیں اور بعد میں این سی ایل اے ٹی جیسے اداروں کے ذریعے کارروائی کرتے ہیں، جو نظام کی سنگین کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
سپریم کورٹ فی الحال ڈیجیٹل اریسٹ سے جڑے سائبر فراڈ کے معاملات پر مرکزی حکومت کی جانب سے داخل کی گئی اسٹیٹس رپورٹ کا جائزہ لے رہی ہے۔ عدالت یہ جانچ بھی کر رہی ہے کہ وزارت داخلہ، آر بی آئی اور ٹیلی کام اتھارٹیز کے درمیان کس حد تک تال میل موجود ہے، تاکہ بھارت کو نشانہ بنانے والے بین الاقوامی سائبر گینگز پر مؤثر کارروائی کی جا سکے۔ چیف جسٹس سوریاکانت نے مزید کہا کہ کئی معاملات میں بینک افسران کی مشتبہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے، خاص طور پر ڈیجیٹل اریسٹ جیسے کیسز میں۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹرمَنی نے یونین آف انڈیا کی جانب سے اسٹیٹس رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان فراڈز کا شکار زیادہ تر بزرگ شہری بن رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ریٹائرڈ جوڑے کا حوالہ دیا، جن کی عمر بھر کی جمع پونجی سائبر فراڈ میں ختم ہو گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…