قومی

Jamat-E-Islami Hind: جماعت اسلامی ہند کا عمرخالد اور شرجیل امام کی مسلسل قید پر گہری تشویش کا اظہار، نائب امیر نے ضمانت کے جلد از جلد تصفیے کا کیا مطالبہ

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے دہلی کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کئے جانے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میڈیا کے کے لیے جاری اپنے بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ ہم دہلی کی ٹرائل کورٹ کی جانب سے شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع کئے بغیر تقریباً چھ برس سے ان کی مسلسل قید سنگین آئینی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ آئینِ ہند کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کے حقوق میں فوری سماعت کا حق بھی شامل ہے۔ مقدمے کی سماعت شروع ہونےسے پہلے طویل مدت تک کی حراست نے قانونی عمل کو ہی سزا کی شکل دے دی ہے۔

’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا‘

ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ امر بھی انتہائی حیران کن ہے کہ اسی قانونی فریم ورک کے تحت الزامات کا سامنا کرنے والے پانچ دیگر ملزمان کو سپریم کورٹ پہلے ہی ضمانت دے چکی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ حکم میں یہ تسلیم کیا تھا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف استغاثہ کا پیش کردہ مواد ’مختلف نوعیت‘ کا ہے اور اسی بنیاد پر یو اے پی اے کی دفعہ 43D(5) کے تحت عائد قانونی پابندی ان پر بدستور لاگو رہتی ہے۔ ٹرائل کورٹ نے بھی خود کو اسی فیصلے کا پابند سمجھتے ہوئے اس معاملے پر ازسرنو غور کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ہمارا ماننا ہے کہ اس سے ایک بڑا آئینی سوال پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ کہ ’ضمانت اصول ہے اور جیل استثنا‘۔ اس اصول کی توثیق ملک کی اعلیٰ ترین عدالت پہلے ہی کر چکی ہے۔ ایسے میں اس اصول کو خصوصی قوانین کے تحت بھی عدالتوں کے سامنے رہنا چاہئے، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں مقدمات طویل عرصے سے زیر التوا ہیں۔

’مقدمے کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے‘

ملک معتصم خان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہند ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہی ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف کو ہر فرد کے لیے قانون کی پاسداری، قانونی مساوات اور بروقت انصاف کے اصولوں کو یقینی بنانا چاہیے۔ یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق سخت قانونی دفعات کی تشریح اور ان کا شخصی آزادی کی ضمانت سے متعلق سوالات کو سپریم کورٹ نے ایک بڑی آئینی بنچ کے سپرد کر رکھا ہے۔ ہم سپریم کورٹ کی بڑی بنچ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ یو اے پی اے کے تحت ضمانت سے متعلق زیر التوا آئینی سوالات کی جلد از جلد سماعت کرکے ان کا تصفیہ کرے تاکہ قانون کے اس اہم مسئلے کی وضاحت ہوسکے ۔ ملک متعصم خان نے کہا کہ ہم متعلقہ عدالتوں اور استغاثہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ مقدمے کو مزید تاخیر کے بغیر تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ آئینی آزادیاں ہمارے جمہوریت کی بنیاد ہیں اور ان میں کسی بھی قسم کی کمزوری ہمارے جمہوری اور آئینی اصولوں سے وابستگی کو متاثر کرتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Anant Singh 9 Murder Statement: اننت سنگھ کا دعویٰ، ’نتیش کمار کے لیے 9 قتل کروائے‘، باہوبلی رکن اسمبلی نے اور کیا کچھ کہا؟

بہار میں قانون ساز کونسل کے انتخابات کے درمیان جے ڈی یو کے رکن اسمبلی…

35 minutes ago

Reliance Reply To Musk: اسٹار لنک تنازع پر ریلائنس نے مسک کو دیا جواب، اسٹار لنک کا خیرمقدم ہے… ہمیں مقابلے سے کوئی ڈر نہیں ہے

گزشتہ ہفتے ایلن مسک نے ہندوستان میں اسٹارلنک کے داخلے کے معاملے پر ارب پتی…

2 hours ago

Akhilesh Yadav: لکھنؤ ایکسپریس کا انجن فیل ہوگیا ہے، راجناتھ سنگھ کی پریس کانفرنس پر اکھلیش کا طنز

۔ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ…

3 hours ago

CMRL-Exalogic Case: سی ایم آر ایل-ایکسالوجک معاملے میں پنارائی وجین کی بڑھیں مشکلیں، سپریم کورٹ کی سماعت پر سب کی نظریں

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو…

4 hours ago