قومی

Pahalgam terror attack: پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاحت پر بڑا بحران، 24 گھنٹوں کے اندر ہوٹلوں کے 90 فیصد کمرے خالی

22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ حملے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر تقریباً 90 فیصد بکنگس منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ہزاروں سیاح وادی چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپسی کے لیے سری نگر ہوائی اڈے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پیش رفت کا براہ راست اثر ہوٹلوں، ٹیکسیوں، ریستورانوں اور مقامی کاروبار پر دیکھا جا رہا ہے۔

فوری اثر: منسوخ ہو رہی ہیں بکنگس، سیاح گھروں کو لوٹ رہے ہیں

ہوٹل کے کمرے خالی ہیں: پہلگام میں تقریباً 20,000 ہوٹل کے کمرے ہیں۔ حملے کے بعد ان کمروں میں سے 90 فیصد سے زیادہ خالی ہو گئے ہیں۔

منسوخی میں اضافہ ہوا: ہوٹل مالکان بکنگ کی منسوخی کی مسلسل شکایت کر رہے ہیں۔ پہلگام ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن کے صدر جاوید برجا کے مطابق ’’لوگ قیام کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ اپنی بکنگ فوری طور پر منسوخ کروا رہے ہیں۔‘‘

سیاح وادی چھوڑ رہے ہیں: صرف پہلگام ہی نہیں، گلمرگ اور سونمرگ جیسے سیاحتی مقامات سے بھی لوگ جلد سے جلد اپنے گھروں کو لوٹنے کے لیے سری نگر کا رخ کر رہے ہیں۔

حکومتی تعاون: اس دوران حکومت نے ایئر لائنز سے اضافی پروازیں چلانے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت سیاحت نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں ہوٹلوں اور ٹریول ایجنسیوں سے بکنگ منسوخی کی فیس معاف کرنے کو کہا گیا ہے۔

معاشی اثر: مقامی کاروبار پر برا اثر

ہوٹل انڈسٹری کو جھٹکا: جموں و کشمیر میں صرف ہوٹل سیکٹر کا سالانہ کاروبار ₹ 6,900 اور ₹ 9,200 کروڑ کے درمیان ہے۔ اس میں 30-50 فیصد کمی کا تخمینہ ہے۔

جی ڈی پی پر اثر: سیاحت کا جموں و کشمیر کی جی ڈی پی میں تقریباً 8 فیصد حصہ ہے۔ ریاست کی جی ڈی پی 2023-24 میں ₹2.30 لاکھ کروڑ تھی، جس میں سیاحت کا حصہ ₹16,100 سے ₹18,400 کروڑ تھا۔

مقامی کاروبار متاثر: ہوٹل، ٹیکسی، ریستوراں، ٹٹو رائیڈ جیسے چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

غیر ملکی سیاح اور ٹریول ایڈوائزری

غیر ملکی سیاح بھی ہوشیار رہیں: امریکہ نے جموں و کشمیر کے لیے ایک بار پھر ’’سفر نہ کریں‘‘ ایڈوائزری جاری کی ہے۔ دوسرے ممالک بھی جلد ہی اسی طرح کی وارننگ جاری کر سکتے ہیں۔

اعتماد میں کمی: اس حملے کے بعد سیاحوں کا اعتماد کم ہو گا اور وادی میں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں زبردست کمی ہو سکتی ہے۔

طویل مدتی اثر: روزگار اور سرمایہ کاری پر بحران

روزگار کھونے کا خوف: سیاحت کے شعبے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کام کرتی ہے۔ بکنگ میں کمی کی وجہ سے ہوٹلوں اور ٹور آپریٹرز کو عملہ کم کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہوٹل انڈسٹری کی حالت نازک: ریاست میں تقریباً 5500 ہوٹل رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں ہاؤس بوٹس بھی شامل ہیں۔ حملہ ان سب کو متاثر کرے گا۔

سرمایہ کاری خطرے میں: تاج ویونتا، لولو گروپ اور کئی بین الاقوامی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کر رہی تھیں۔ اب ان کے پراجیکٹس بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

UP 34 IAS Officers Transfer: اتر پردیش میں بڑا انتظامی ردوبدل، 34 آئی اے ایس افسران کے تبادلے، 14 اضلاع کو ملے نئے ڈی ایم

اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…

5 hours ago

National Film Awards Ceremony: صدر جمہوریہ دروپدی مرمو ایکتا نگر پہنچیں، منگل کو 72ویں نیشنل فلم ایوارڈز تقریب میں ہوں گی شریک

صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…

6 hours ago

Hanuman Ansh: رام للا کے درشن کے بعد جذباتی ہوئیں ’ہنومان انش‘ کی پروڈیوسر انوپریا ناگر، میڈیا پارٹنر ’بھارت ایکسپریس‘ کا ادا کیا شکریہ

فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…

6 hours ago

Amaze Award 2026: بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اپیندر رائے کو امیز ایوارڈ 2026 سے نوازا جائے گا، کوی سمیلن اور مشاعرے کا ہوگا انعقاد

’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…

6 hours ago

Sonia Gandhi Electoral Roll Matter: سونیا گاندھی کے ووٹر لسٹ معاملے میں ریویژن پٹیشن منظور، 29 ستمبر کو ہوگی دوبارہ سماعت

راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…

6 hours ago