قومی

Madhya Pradesh Deadly Traffic Jam: پہلے گاڑی، پھر کھاٹ… پھر بھی جان نہ بچ سکی، مدھیہ پردیش میں ٹریفک جام ثابت ہوا جان لیوا

مدھیہ پردیش کے دتیہ ضلع کے اندرگڑھ قصبے میں شدید ٹریفک جام کے باعث ایک نوجوان کو بروقت اسپتال نہ پہنچایا جا سکا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہو گئی۔ اس دردناک واقعے نے ایک بار پھر انتظامیہ، ضلع انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ملک کا دل کہلانے والا مدھیہ پردیش ان دنوں مختلف وجوہات کی بنا پر سرخیوں میں ہے، لیکن اس بار ریاست کی خستہ حال سڑکیں اور بدانتظام ٹریفک نظام ایک بے گناہ جان کے ضیاع کا سبب بن گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ دتیہ ضلع میں ٹریفک جام میں پھنس جانے کی وجہ سے ایک نوجوان کو بروقت طبی امداد نہیں مل سکی اور اس نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔

دتیہ ضلع کا اندرگڑھ قصبہ کافی عرصے سے شدید ٹریفک جام کے مسئلے سے دوچار ہے۔ یہاں مسلسل تعمیراتی کام اور سڑکوں کی توسیع جاری ہے، جبکہ مرکزی بازار کے راستے پر حد سے زیادہ ٹریفک دباؤ رہتا ہے۔ اس صورتحال میں شہریوں کو روزانہ گھنٹوں جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف مہم بھی چلائی گئی، لیکن اس کے باوجود ٹریفک جام کا مستقل حل نہیں نکل سکا۔

پورا معاملہ کیا ہے؟
تازہ واقعہ اندرگڑھ کے مرکزی بازار علاقے کا ہے، جہاں تھریٹ تھانہ علاقہ کے گاؤں پہاڑی راوت کے رہائشی پریم نارائن بگھیل کو کرنٹ لگنے سے شدید چوٹ آ گئی۔ اہل خانہ فوری طور پر اسے اندرگڑھ کے سرکاری اسپتال لے جانے کے لیے روانہ ہوئے، لیکن مرکزی بازار میں تقریباً ایک کلو میٹر طویل ٹریفک جام لگا ہوا تھا۔ گاڑی جام میں پھنس جانے کے باعث زخمی نوجوان کو بروقت اسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔ مجبوری میں اہل خانہ نے اسے ایک کھاٹ پر لٹایا اور پیدل اسپتال کی طرف لے گئے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے نوجوان کو مردہ قرار دے دیا۔ اس واقعے کے بعد اندرگڑھ میں غم و غصے کا ماحول ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ برسوں سے اندرگڑھ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان ہونے کے باوجود نہ تو بائی پاس سڑک تعمیر ہو سکی اور نہ ہی ٹریفک جام کا مستقل حل نکالا گیا۔ اب حالات یہ ہو گئے ہیں کہ اندرگڑھ کا جام لوگوں کی جان لینے لگا ہے۔ یہ واقعہ ریاستی حکومت، ضلع انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی لاپروائی کو بے نقاب کرتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے متبادل راستہ یا بائی پاس تعمیر کیا جاتا تو شاید آج ایک قیمتی جان بچائی جا سکتی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس المناک حادثے کے بعد انتظامیہ کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

11 hours ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

11 hours ago