اتر پردیش کے کاس گنج ضلع سے ایک ایسا چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف انسانیت اور رشتوں کو شرمسار کر دیا بلکہ سماج کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہاں ایک ماں نے اپنے ناجائز تعلقات کا راز چھپانے کے لیے اپنی ہی بیٹی کو قتل کروا دیا۔ پولیس نے اس سنسنی خیز قتل کیس کا پردہ فاش کرتے ہوئے ملزم ماں اور اس کے ساتھی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ واقعہ اس سوچ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے کہ ماں کو ہمیشہ اولاد کے لیے سب سے محفوظ ڈھال سمجھا جاتا ہے، مگر کاس گنج میں ماں ہی اپنی بیٹی کی جان کی دشمن بن گئی۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت شبنور کے طور پر ہوئی ہے، جو گنج ڈنڈوارہ کے پچپوکھرا گاؤں کے رہنے والے جاویر کی اہلیہ تھی۔
کیا تھا پورا معاملہ؟
کہانی کا آغاز گزشتہ سال 26 دسمبر سے ہوتا ہے، جب سونگڑھی تھانہ علاقے کے خمانی نگلہ بمبا کے قریب ایک خاتون کی لاش ملی۔ ابتدائی طور پر پولیس کے لیے یہ ایک اندھا قتل (بلائنڈ مرڈر) کیس تھا۔ جائے وقوعہ پر کوئی واضح سراغ موجود نہیں تھا، تاہم لاش کے قریب ملنے والے ایک کاغذ کے ٹکڑے نے پورے معاملے کی سمت بدل دی۔ اس کاغذ پر درج نام اور پتے کی بنیاد پر پولیس نے لاش کی شناخت شبنور کے طور پر کی۔ بیٹی کی موت کے بعد شبنور کی ماں یاسمین خود پولیس کے پاس پہنچی اور انصاف کی دہائی دی۔ اس نے اپنی بیٹی کے شوہر، سسر اور سسرالی رشتہ داروں کے خلاف جہیز کے لیے قتل کا مقدمہ درج کرایا۔ ابتدا میں سب کو یہی لگا کہ ایک مجبور ماں اپنی بیٹی کے لیے انصاف مانگ رہی ہے، مگر جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھی، ویسے ویسے سچ سامنے آتا گیا اور یاسمین کا چہرہ بے نقاب ہو گیا۔
ناجائز تعلقات نے لے لی جان
کاس گنج کی پولیس سپرنٹنڈنٹ انکیتا شرما کے مطابق، جب کیس کی باریک بینی سے جانچ کی گئی اور کال ڈیٹیل ریکارڈز کی چھان بین کی گئی تو شک کی سوئی مقتولہ کی ماں یاسمین کی طرف گھومنے لگی۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یاسمین کے اپنے ہی سمدھی، بدایوں کے رہنے والے رہیش احمد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے۔ شبنور کو اپنی ماں کے اس راز کا علم ہو چکا تھا۔ یاسمین کو ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ اگر اس کی بیٹی نے یہ بات اپنے والد یا سسرال والوں کو بتا دی تو اس کی سماجی بدنامی ہو جائے گی اور اس کا گھر برباد ہو جائے گا۔ اسی خوف میں مبتلا ہو کر یاسمین نے ممتا کا گلا گھونٹ دیا۔ اس نے اپنے عاشق رہیش احمد کے ساتھ مل کر شبنور کو راستے سے ہٹانے کی سازش رچی اور اس کا قتل کروا دیا۔
پولیس کارروائی اور انعام
پولیس نے مسلسل محنت اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر اس پیچیدہ قتل کیس کو حل کیا۔ ملزم ماں یاسمین اور اس کے ساتھی رہیش احمد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ انکیتا شرما نے اس سنسنی خیز کیس کو سلجھانے والی ٹیم کی ستائش کی اور اہلکاروں کے لیے 25 ہزار روپے نقد انعام کا اعلان بھی کیا۔ یہ واقعہ سماج کے سامنے ایک تلخ سوال چھوڑ گیا ہے کہ آخر کوئی ماں اپنے ذاتی مفاد اور ناجائز رشتوں کے لیے اپنی ہی اولاد کی جان کیسے لے سکتی ہے؟ فی الحال دونوں ملزمان سلاخوں کے پیچھے ہیں اور پولیس قانونی کارروائی کو آگے بڑھا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…