اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سیاسی ماحول مسلسل گرم ہوتا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں دسہرے سے پہلے دارالحکومت لکھنؤ کے کئی اہم چوراہوں پر ایسے پوسٹر لگائے گئے، جنہوں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان پوسٹروں میں اپوزیشن جماعتوں اور انڈیا اتحاد کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔
’سناتن بھارت کے مخالف راون‘ کے نام سے لگائے گئے پوسٹر
شہر میں لگائے گئے پوسٹروں پر ’سناتن بھارت کے مخالف راون‘ لکھا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ پوسٹر سناتن رکشا سنگٹھن کی جانب سے لگائے گئے تھے۔ ان کے ذریعے کئی سیاسی اور عوامی شخصیات کو ایک ساتھ دکھاتے ہوئے ان پر سخت حملہ کیا گیا ہے۔ پوسٹر لگتے ہی یہ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئے۔
مرحوم عتیق احمد کی کو بھی نہیں بخشا
پوسٹر میں سب سے نمایاں طور پر مرحوم سیاسی لیڈر عتیق احمد کی تصویر راون کے طور پر دکھائی گئی ہے۔ اس کے ساتھ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ پوسٹر کے ذریعے اپوزیشن جماعتوں کو اپنے نفرتی ایجنڈے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
کئی معروف شخصیات کو بھی بنایا گیا نشانہ
عتیق احمد، اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کے علاوہ پوسٹر میں کئی دیگر معروف نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں ایلن مسک، امریکی رکن پارلیمنٹ الہان عمر، بنگلہ دیش کے محمد یونس، ارب پتی کاروباری جارج سوروس، مختار انصاری، اعظم خاں اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں۔ پوسٹر لگانے والوں کا دعویٰ ہے کہ ان شخصیات نے براہ راست یا بالواسطہ طور پر بھارت کے مفادات کے خلاف بیانات دیے یا ایسی سرگرمیوں کی حمایت کی۔
مسک، الہان عمر اور محمد یونس پر اٹھائے گئے سوالات
پوسٹر میں شامل شخصیات کے حوالے سے مختلف الزامات بھی درج کیے گئے ہیں۔ ایلن مسک کی سوشل میڈیا پر ایک مبینہ قابل اعتراض پوسٹ کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہیں امریکی رکن پارلیمنٹ الہان عمر پر مسلسل بھارت مخالف بیانات دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔ بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد محمد یونس کے شمال مشرقی بھارت سے متعلق بیانات بھی تنازعات کا سبب بنے تھے۔
جارج سوروس اور پرشانت بھوشن بھی نشانے پر
پوسٹر کے ذریعے جارج سوروس کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں سے وابستہ رہے ہیں۔ وہیں سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے ایک عوامی پلیٹ فارم پر تختہ پلٹ جیسی بات کہہ کر تنازع کھڑا کردیا تھا۔ انہی معاملات کو بنیاد بنا کر ان کی تصاویر بھی پوسٹر میں شامل کی گئی ہیں۔
چند ہی منٹوں میں پھاڑ دیے گئے پوسٹر
دسہرے سے پہلے لگائے گئے ان پوسٹروں نے دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے جواب میں دوسرے سیاسی پوسٹر بھی سامنے آسکتے ہیں۔ تاہم، موصولہ اطلاعات کے مطابق پوسٹروں میں دکھائے گئے لیڈروں اور شخصیات کے حامیوں نے چند ہی منٹوں کے اندر کئی مقامات سے یہ پوسٹر پھاڑ دیے۔ اس کے بعد پوسٹر وار مزید بحث کا موضوع بن گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مسلم راشٹریہ منچ کے کارکنان کنونشن میں راہل گاندھی، اپوزیشن اور CJP کی سیاست پر…
غازی آباد کے سن سٹی میں 22 سے 28 اکتوبر تک چھترپتی شیواجی مہاراج کی…
عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے…
نو راتری کے موقع پر گوتم اڈانی نے جنوبی گجرات میں شریمد راج چندر مشن…
گوا میں راہل گاندھی نے ووٹ چوری کے الزامات کو لے کر الیکشن کمیشن کو…
منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان مرکزی وزیر…