قومی

LPG New Rules: پی این جی کنکشن لینے کے بعد 30 دن کے اندر ایل پی جی سلنڈر سرینڈر کرنا ہوگا، ورنہ بند کر دیا جائے گا اکاؤنٹ

ملک میں ایل پی جی (LPG) کی تقسیم کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور ڈپلیکیٹ کنکشنز پر روک لگانے کے لیے مرکزی حکومت نے نئے ضوابط نافذ کیے ہیں۔ نئے قوانین کے تحت پی این جی (PNG) کنکشن حاصل کرنے والے صارفین کو مقررہ مدت کے اندر اپنا ایل پی جی کنکشن سرینڈر کرنا ہوگا۔ مرکزی حکومت نے ایل پی جی (Liquefied Petroleum Gas) اور پی این جی (Piped Natural Gas) صارفین کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان قواعد کا مقصد ڈپلیکیٹ گیس کنکشنز کا خاتمہ، سبسڈی نظام کو بہتر بنانا اور ان علاقوں میں ایل پی جی کی دستیابی بڑھانا ہے جہاں ابھی تک پی این جی کی سہولت موجود نہیں۔

30 دن کے اندر ایل پی جی اکاؤنٹ بند کرنا ہوگا

نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی خاندان پی این جی کنکشن حاصل کرتا ہے تو اسے 30 دن کے اندر اپنا موجودہ ایل پی جی کنکشن سرینڈر کرنا ہوگا۔ یہ اصول انڈین، بھارت گیس اور ایچ پی گیس کے صارفین پر لاگو ہوگا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے گیس کی تقسیم کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بنے گا۔

حکومت نے مئی میں ایل پی جی سپلائی اور تقسیم کے ضوابط میں ترمیم کی تھی۔ ترمیم شدہ قوانین کے مطابق پی این جی کنکشن لینے کے بعد مقررہ مدت کے اندر ایل پی جی کنکشن بند کرنا لازمی ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے یکم جون کو پی این جی کنکشن لیا ہے تو اسے یکم جولائی تک اپنا ایل پی جی اکاؤنٹ بند کرنا ہوگا۔اگر صارف مقررہ مدت کے اندر ایل پی جی کنکشن سرینڈر نہیں کرتا تو اس کی ایل پی جی ری فل سروس روک دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اکاؤنٹ بھی بند کیا جا سکتا ہے۔

دوسرے شہر منتقل ہونے والوں کے لیے خصوصی سہولت

تاہم ملازمت، تعلیم یا دیگر وجوہات کی بنا پر ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہونے والے افراد کے لیے حکومت نے خصوصی انتظام بھی کیا ہے۔ ایسے صارفین کو ایل پی جی کنکشن سرینڈر کرنے کے بعد ٹرانسفر واؤچر دیا جائے گا، جس کی مدد سے وہ ان علاقوں میں دوبارہ ایل پی جی کنکشن حاصل کر سکیں گے جہاں پی این جی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔یہ سہولت خاص طور پر کرایہ داروں، طلبہ، مہاجر کارکنوں اور بار بار رہائش تبدیل کرنے والے افراد کے لیے فائدہ مند سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے نئے شہر میں گیس کنکشن حاصل کرنے کا عمل آسان ہوگا۔

سلنڈر ڈلیوری کے نظام میں بھی تبدیلی

رپورٹس کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ایسے صارفین کی نشاندہی کے لیے اپنے ڈیٹا بیس کا جائزہ لے رہی ہیں جن کے پاس بیک وقت ایل پی جی اور پی این جی دونوں سہولیات موجود ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈپلیکیٹ کنکشنز ختم ہونے سے کالابازاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ضرورت مند خاندانوں تک ایل پی جی کی فراہمی بہتر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔

اس کے علاوہ ایل پی جی سلنڈر کی ڈلیوری کے طریقہ کار میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب ڈلیوری ایجنٹ کو سلنڈر فراہم کرنے سے پہلے صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر بھیجا گیا او ٹی پی (OTP) تصدیق کرنا ہوگا۔ او ٹی پی کی تصدیق کے بعد ہی سلنڈر کی ڈلیوری مکمل تصور کی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

9 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

10 hours ago