نئی دہلی: پیر کے روز لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع سے متعلق سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ یادداشت (Unpublished Memoir) کا حوالہ دینے کی کوشش کی۔ اس پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے سخت اعتراض کیا اور ایوان کی کارروائی بار بار معطل کرنی پڑی۔ صورتحال اتنی کشیدہ ہو گئی کہ آخرکار لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر بحث جاری تھی۔ جیسے ہی راہل گاندھی نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، انہوں نے چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں جنرل نرونے کی غیر شائع شدہ یادداشت کے حوالے سے بات چھیڑدی۔ اس پر بی جے پی کے اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کے قواعد کے تحت کسی غیر مطبوعہ کتاب یا غیر مصدقہ ماخذ کا حوالہ دینا خلاف ضابطہ ہے۔
اسپیکر کی مداخلت اور کارروائی کی معطلی
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے مداخلت کرتے ہوئے راہل گاندھی کو ہدایت دی کہ وہ غیر مطبوعہ کتاب اور اس سے منسلک مضمون کا حوالہ دینے سے گریز کریں اور اپنی تقریر قواعد کے مطابق جاری رکھیں۔ تاہم، راہل گاندھی کے اصرار کے باعث ایوان میں شور شرابہ بڑھتا چلا گیا، جس کے بعد کارروائی پہلے دوپہر 3 بجے، پھر 4 بجے اور آخرکار دن بھر کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اسپیکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایوان قواعد کے تحت چلتا ہے اور کسی بھی رکن کو چیئر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق نہیں۔
کرن رجیجو کا سخت رد عمل
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مسلح افواج کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’ہم سب قائد حزب اختلاف کی تقریر سننے کے لیے بیٹھے تھے، مگر راہل گاندھی نے ابتدا ہی سے قواعد کی خلاف ورزی کی اور ایک ایسی کتاب کا حوالہ دینا شروع کر دیا جس کی نہ اشاعت ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی صداقت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسپیکر کے واضح حکم کے باوجود انہوں نے اپنی بات دہرائی۔ یہ پارلیمانی روایت کے خلاف ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’کیا صرف کسی معروف خاندان میں پیدا ہونا پارلیمنٹ کے قواعد سے بالاتر ہونے کا جواز بن جاتا ہے؟ راہل گاندھی کو خاص طور پر چین سرحد کے معاملے پر کانگریس کی سابقہ غلطیوں کے تناظر میں قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘
راج ناتھ سنگھ اور امت شاہ کی مداخلت
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی چیئر سے اپیل کی کہ راہل گاندھی کو غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے کی اجازت نہ دی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس کتاب کا ابھی اجرا ہی نہیں ہوا، اس کی بنیاد پر ایوان میں بات کرنا کس حد تک درست ہے؟ وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بحث کا موضوع صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریے کی تحریک میں حصہ لینا تھا اور بی جے پی کے رکن تیجسوی سوریہ نے محض کانگریس کے سابقہ دور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی، نہ کہ کسی کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا۔
راہل گاندھی کا مؤقف
راہل گاندھی نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سے بڑا کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت جنرل نرونے کی یادداشت میں درج باتوں سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: ’’میں ایک میگزین میں شائع مضمون پڑھ رہا ہوں جو سابق آرمی چیف کی غیر مطبوعہ یادداشت پر مبنی ہے۔ اگر حکومت کو کوئی خوف نہیں تو مجھے یہ پڑھنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ وہ بی جے پی کے رکن تیجسوی سوریہ کے الزامات کا جواب دے رہے تھے، جنہوں نے کانگریس کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا تھا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ چین سے متعلق معاملہ انتہائی حساس ضرور ہے، مگر قائد حزب اختلاف کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ راہل گاندھی کے بیان اور حکومت کے سخت رد عمل کے بعد لوک سبھا کا ماحول شدید کشیدہ ہو گیا۔ دونوں جانب سے تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا اور شور شرابے کے باعث کارروائی چلانا ممکن نہ رہا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…