پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس 2026 کے چوتھے دن (2 فروری) زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ لوک سبھا میں صدرجمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر راہل گاندھی نے ڈوکلام کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل نرونے کی غیر شائع شدہ کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے چین کے حوالے بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔ راہل گاندھی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت سابق آرمی چیف کی کتاب کو شائع نہیں ہونے دے رہی ہے، کیونکہ اگر یہ کتاب شائع ہو گئی تو عوام کو مودی حکومت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی، کہ جب چین ہمارے سامنے کھڑا تھا تو 56 انچ کی چھاتی کا کیا ہوا؟
ڈوکلام معاملہ کیا تھا؟
راہل گاندھی کے اس سوال پر پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے آٹھ سال پرانے اس واقعے کو ایوان میں اٹھا کر حکومت سے سوال کیا کہ جب بھارت اور چین کی فوجیں آمنے سامنے آ گئی تھیں۔ 73 دن تک جاری رہنے والے اس تصادم نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی تھی۔ دراصل ڈوکلام تنازع بھارت کی شمال مشرقی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں بھارت، بھوٹان اور تبت (چین) کی سرحدیں ایک ساتھ ملتی ہیں۔ بھوٹان اس علاقے کو اپنا حصہ مانتا ہے، جبکہ چین اسے اپنے ڈونگلینگ صوبے کا حصہ قرار دیتا ہے۔
بھارت کے لیے انتہائی اہم علاقہ ہے ڈوکلام
بھارت کے لیے ڈوکلام انتہائی اہم علاقہ ہے۔ اگر چین یہاں قبضہ جما لیتا ہے تو وہ شمال مشرقی بھارت کو باقی ملک سے جوڑنے والے حساس “چکن نیک” کے بہت قریب پہنچ سکتا ہے۔ کسی جنگ یا کشیدگی کی صورت میں چین اس کوریڈور کو کاٹ کر شمال مشرقی بھارت کو باقی بھارت سے الگ کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت اور بھوٹان مل کر چین کے خلاف اس علاقے میں موقف اختیار کرتے ہیں۔ بھوٹان کے ساتھ بھارت کا ایک معاہدہ ہے، جس کے تحت بھارت بھوٹان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پابند ہے۔ بھارت، بھوٹان پر کسی بھی غیر ملکی حملے کی صورت میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتا۔
کیا تھا وہ واقعہ؟
دراصل 16 جون 2017 کو چین نے ڈوکلام میں ایک پرانی سڑک کی مرمت اور تعمیر کا کام شروع کیا تھا۔ چینی فوج پی ایل اے نے بڑی تعداد میں بلڈوزرز اور فوجیوں کے ساتھ تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر دیں، جس پر بھوٹان نے اعتراض کیا، لیکن چین پیچھے نہیں ہٹا۔بالآخر بھارت نے 18 جون 2017 کو اس معاملے میں مداخلت کی اور تقریباً 300 بھارتی فوجی بلڈوزرز کے ساتھ ڈوکلام میں داخل ہوئے۔ بھارتی فوج نے چینی تعمیراتی کام روک دیا اور چینی فوجیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جس کے بعد بھارت اور چین کے درمیان شدید ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ 73 دن تک جاری رہنے والے اس تناؤ کے دوران بھارت اور چین کے سینکڑوں فوجی آمنے سامنے موجود تھے، جبکہ ان کے عقب میں ہزاروں فوجی تعینات تھے۔ بھارت نے کسی بھی ممکنہ تصادم کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے اپنے کئی فائٹر جیٹس بھی الرٹ حالت میں پیچھے تعینات کر رکھے تھے۔16 جون سے 28 اگست تک سرحد پر کشیدگی برقرار رہی۔ آخرکار بھارت اور چین کے درمیان تیز رفتار ڈی انگیجمنٹ پر اتفاق ہوا، یعنی دونوں ممالک نے اپنی افواج کو مرحلہ وار پیچھے ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی۔ بھارت نے ڈوکلام سے اپنے فوجی واپس بلا لیے، جبکہ چین نے بھی اپنے فوجیوں اور تعمیراتی آلات کو وہاں سے ہٹا لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…