قومی

BRICS: برکس پارلیمانی فورم میں ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، ملک کے ڈیجیٹل اقدامات پر ڈالیں گے روشنی

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا برازیل میں 11ویں برکس پارلیمانی فورم میں کثیرالجہتی امن اور سیکیورٹی آرکیٹیکچر میں اصلاحات پر ملک کے خیالات پیش کریں گے۔ انھوں نے برازیلیا میں 3 سے 5 جون تک ہونے والے 11ویں برکس پارلیمانی فورم میں شرکت کے لیے یکم جون کو برازیل کا دورہ کیا۔ وہ ہندوستانی پارلیمانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

اس فورم میں برکس ممبران اور مدعو ممالک کی پارلیمانوں کے پریزائیڈنگ افسران شرکت کریں گے اور اس سال کے تھیم ’’ایک زیادہ جامع اور پائیدار گلوبل گورننس کی تعمیر میں برکس پارلیمانوں کا کردار‘‘ پر غور کریں گے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق لوک سبھا اسپیکر ’’بین الپارلیمانی تعاون برائے ذمہ دار اور جامع مصنوعی ذہانت‘‘ اور ’’برکس پارلیمنٹس یونائیٹڈ فار دی ریفارمز آف ملٹی لیٹرل پیس اینڈ سیکیورٹی آرکیٹیکچر‘‘ کے فورم سے خطاب کریں گے۔

ہندوستان کے ڈیجیٹل اقدامات پر روشنی ڈالیں گے اوم برلا

لوک سبھا اسپیکر کی قیادت میں ہندوستانی وفد میٹنگوں کے دوران پارلیمنٹ آف انڈیا کے سنسد بھاشینی سمیت AI سے متعلق ڈیجیٹل اقدامات کو بھی اجاگر کرے گا۔ سنسد بھاشینی ایک AI سے چلنے والا اقدام ہے جسے ہندوستانی پارلیمنٹ میں AI اور ریئل ٹائم ترجمہ کے ذریعے پارلیمانی دستاویزات اور ترسیل کے میدان میں انقلاب لانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ یہ سسٹم اراکین پارلیمنٹ، محققین اور ماہرین تعلیم کو متعدد زبانوں میں پارلیمانی مباحثوں اور ریکارڈز کے وسیع ذخیرہ تک رسائی کے قابل بنا رہا ہے۔

اس وفد میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش، سریندر سنگھ ناگر (ایم پی، آر ایس)، وجے بگھیل (ایل ایس ایم پی)، وویک ٹھاکر (ایم پی ایل ایس)، ڈاکٹر شبری بیریڈی (ایل ایس، ایم پی)، اتپل کمار سنگھ (سیکرٹری، جنرل ایل ایس) اور پی سی مودی (سیکرٹری جنرل راجیہ سبھا) شامل ہیں۔

سمٹ کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان منظور کیا جائے گا اور اس درمیان لوک سبھا اسپیکر اوم برلا فورم کے سائیڈ لائنز میں حصہ لینے والی پارلیمانوں کے پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ برکس گروپ میں برازیل، روس، ہندوستان، چین، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران شامل ہیں۔ وہیں بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، نائیجیریا، ملائیشیا، تھائی لینڈ، یوگنڈا اور ازبکستان کے پریزائیڈنگ افسران کو بین پارلیمانی یونین (IPU) کی صدر ٹولیا آکسن کے ساتھ فورم کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Jio now sets its sights on the US and Germany: جیو کی نظریں اب امریکہ اور جرمنی پر: 12 شراکت داریوں کے ذریعے 150 کروڑ صارفین تک پہنچنے کی امید

ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…

2 hours ago

Vijeta Dahiya: اقتدار تبدیلی کی بات کرنا غیر آئینی نہیں، جمہوریت میں عوام کو حکومت بدلنے کا حق ہے: وجیتا دہیا

پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…

2 hours ago