تحریر: گریراج اگروال
مصنوعی ذہانت کا تیزی کے ساتھ فروغ آج کے زمانے کی محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس سے اس بات کا تعین بھی ہورہا ہے کہ معیشتیں کیسے ترقی کرتی ہیں ، معاشرے کیسے کام کرتے ہیں اور عالمی اثر و رسوخ کا استعمال کیسے ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت فروغ پا رہی ہے اور اس کے نظم و نسق کے مختلف نمونے سامنے آ رہے ہیں ، امریکہ میں ایک نیا طرز عمل پروان چڑھ رہا ہے—ایساطرزعمل جوآزاد ، نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی جدت، لچکدار اور کم ضابطہ بند طرز حکمرانی اور بنیادی ڈھانچے اور شراکت داریوں کے ذریعے وسعت کو اہمیت دیتا ہے۔
اس ماڈل کی بنیاد ایک ایسے نظام پر ہے جس نے طویل عرصے سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں امریکہ کی قیادت کو تقویت دی ہے۔ نئی دہلی میں واقع امریکی سفارت خانہ کے ایک اقتصادی افسر اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’امریکہ آزاد منڈیوں، عالمی معیار کے تحقیقی اداروں اور کاروباری جذبے کی بدولت عرصہ دراز سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ندرت کے شعبے میں سب سے آگے رہا ہے۔ یہ وفاقی حکومت کی بدولت ہے جس کا کردار ایسے حالات پیدا کرنا ہے جہاں نجی شعبے کی قیادت میں جدت پھل پھول سکے۔‘‘
اس طرزعمل کو امریکہ کے مصنوعی ذہانت سے متعلق عملی منصوبے کے ذریعے واضح کیا گیا ہے، جو تین ستونوں پر مبنی ہے: ندرت ، بنیادی ڈھانچہ اور بین الاقوامی سفارت کاری اور سلامتی۔ افسر بتاتے ہیں ’’ ان تینوں میں مشترک بنیادی اصول یہ ہیں: امریکی کارکن انتظامیہ کی اے آئی پالیسی کے مرکز میں ہیں؛ اے آئی نظام نظریاتی تعصب سے پاک ہونے چاہیے اور انہیں معروضی سچ کی جستجو کے لیے ڈیزائن کیا جانا چاہیے؛ اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری جدید ٹیکنالوجیوں کا غلط استعمال نہ ہو اور نہ ہی انہیں بدنیتی پر مبنی عناصر چرا سکیں۔‘‘
امریکی ماڈل کیوں مؤثر ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ندرت کے لیے امریکی طریقۂ کار حکومت، صنعت، اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون پر مبنی ہے، جہاں وفاقی حکومت کنٹرول کرنے کی بجائے سہولت فراہم کرنے کا کردار ادا کرتی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی)، وہائٹ ہاؤس آفس آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی، اور نیشنل سائنس فاؤنڈیشن کے نیشنل اے آئی ریسرچ ریسورس پائلٹ جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کے ذریعے حکومت کمپیوٹنگ، ماڈلس، ڈیٹا اور سافٹ ویئر وسائل تک رسائی بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔
اسی کے ساتھ پالیسی ساز وں کے ذہن میں یہ بات صاف ہے کہ قیادت برقرار رکھنے کے لیے غیر ضروری رکاوٹوں سے بچنا ضروری ہے۔ اقتصادی افسر کہتے ہیں ’’مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی قیادت برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کے نجی شعبے کو لال فیتہ شاہی سے آزاد ہونا چاہیے۔‘‘تاہم اس لچک کے ساتھ اعتماد سازی کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’موزوں ضابطہ جاتی اور غیر ضابطہ جاتی پالیسی فریم ورک (جو عوامی مفاد کا تحفظ کریں)مصنوعی ذہانت پر عوام کے اعتماد کو مستحکم کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔ ‘‘ اور ان اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جو بچوں کے تحفظ ، دانشورانہ ملکیت کے احترام اور کارکنوں اور طبقات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
کھلے پن اور جواب دہی کے درمیان یہی توازن ضابطہ کاری کے فلسفے تک بھی پھیلتا ہے۔ جیسا کہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے، اے آئی کی ترقی کو سخت ضابطوں کے ذریعے محدود کرنا ’’نہ صرف قائم شدہ اداروں کو بلاجواز فائدہ پہنچائے گا… بلکہ یہ کئی نسلوں میں سامنے آنے والی سب سے امید افزا ٹیکنالوجیوں میں سے ایک کو مفلوج بھی کر دے گا۔‘‘
اوپن سورس اور اوپن ویٹ (ماڈل کے اندرونی وزن تک رسائی رکھنے والے) اے آئی ماڈلس کی حمایت بھی امریکی طریقۂ کار کا حصہ ہے۔ یہ تجارتی اور حکومتی دونوں سطحوں پر اپنانے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں حسّاس ڈیٹا بند ماڈل فراہم کنندگان کے ساتھ شیئر نہیں کیا جا سکتا، اور ایسے ماڈلس اس علمی تحقیق کے لیے بدستور ناگزیر ہیں جو ماڈل ویٹس اور تربیتی ڈیٹا تک رسائی پر منحصر ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ وہ وضاحت کرتے ہیں ’’وہائٹ ہاؤس اے آئی ایکشن پلان وفاقی حکومت سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اوپن ماڈلس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے اور سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت کرے تاکہ تحقیقی برادری کی عالمی معیار کے نجی شعبے کے کمپیوٹنگ، ماڈلس، ڈیٹا اور سافٹ ویئر وسائل تک رسائی میں اضافہ کیا جا سکے۔‘‘
مصنوعی ذہانت کی بنیادیں مضبوط کرنا
سافٹ ویئر اور ماڈلس سے بعید، مصنوعی ذہانت کی قیادت اب طبیعی بنیادی ڈھانچے پر بھی منحصر ہوتی جارہی ہے۔ اقتصادی افسر کہتے ہیں ’’مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے نئے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی—چِپ بنانے کے لیے کارخانے، ان کو چلانے کے لیے ڈیٹا سینٹرس، اور ان سب کو توانائی فراہم کرنے کے لیے توانائی کے نئے ذرائع۔‘‘
اسی مقصد کے لیے امریکہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو دوبارہ اپنی سرزمین پر لانے پر کام کر رہا ہے تاکہ تکنیکی قیادت مضبوط ہو اور بیرونی رکاوٹوں پر انحصار کم ہو۔ محفوظ اور مضبوط سپلائی چینس اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اے آئی نظام معیشت اور قومی سلامتی کے ڈھانچوں میں زیادہ گہرائی سے شامل ہو رہے ہیں۔
اسی کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی یہ پیش رفت امریکی سرحدوں سے باہر بھی پھیل رہی ہے۔ جو ممالک اپنی صلاحیتیں تشکیل دے رہے ہیں، ان کے لیے وہ وضاحت کرتے ہیں ’’امریکی اے آئی کمپنیاں اور اوپن سورس ماڈلس مقامی تربیت اور نمونے میں بہتری کو لسانی اور ثقافتی موافقت کے شانہ بہ شانہ ممکن بنا سکتی ہیں۔ ‘‘
وہ مزید کہتے ہیں ’’امریکی کمپنیاں محفوظ اور مضبوط سپلائی چینس کے ساتھ بڑے، مصنوعی ذہانت کے خودمختار بنیادی ڈھانچے بھی قائم کر سکتی ہیں، جو پردے کے پیچھے سے کی جانے والی کاروائی کے خطرات کو کم سے کم کرتے ہیں۔‘‘
یہ نقطۂ نظر ہندوستان کے ساتھ تعاون میں بھی نظر آتا ہے، جہاں امریکی کمپنیاں ڈیٹا سینٹرس سمیت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع میں کردار ادا کر رہی ہیں، تاکہ قابلِ اعتماد اے آئی نظاموں کو عالمی سطح پر وسعت دی جا سکے۔
ٹرسٹ کے ذریعے وسعت
ہندوستان، امریکہ کی اس کوشش میں اہم شراکت دار ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے اپنے نظام کو عالمی سطح پر وسعت دے ۔ یو ایس۔انڈیا ٹرسٹ اقدام اے آئی، سیمی کنڈکٹرس، کوانٹم ٹیکنالوجیوں، توانائی اور خلاء سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔اقتصادی افسر، فروری 2025 میں صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم مودی کی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں ’’ٹرسٹ اقدام کے ایک مرکزی ستون کے طور پر، رہنماؤں نے امریکہ۔ہند روڈ میپ برائے تیز تر اے آئی انفراسٹرکچر کے لیے عزم کا اظہار کیا، جس میں ہندوستان میں بڑے پیمانے پر امریکی نژاد اے آئی انفراسٹرکچر کی مالی اعانت، تعمیر، توانائی فراہمی اور رابطے سے متعلق رکاوٹوں کی نشاندہی، نیز سنگ میل اور آئندہ اقدامات شامل ہیں۔‘‘ اس کے بعد سے ہی امریکی کمپنیوں نے ہندوستان میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی مزید توسیع میں حصہ لیا ہے۔
اس سلسلے میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی، جہاں امریکہ نے ایسے اقدامات متعارف کرائے جو امریکی مصنوعی ذہانت کے انتظامی ڈھانچے کو عالمی سطح پر اپنانے میں وسعت دیں گے۔ ان میں نیشنل چیمپئنس انی شی ایٹو کے ذریعے شراکت دار ممالک کی سرکردہ اے آئی کمپنیوں کو حسبضرورت برآمداتی فریم ورک میں شامل کرنا ، یو ایس ٹیک پرو سپیرٹی کور کے ذریعے تکنیکی مہارت فراہم کرنا، ورلڈ بینک، ایکسپورٹ۔امپورٹ بینک اور یو ایس انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن جیسے اداروں کے ذریعے مالی اعانت میں اضافہ، اور نِسٹ کی اے آئی ایجنٹ اسٹینڈرڈس انی شی ایٹو کے ذریعے باہم مربوط معیارات کو فروغ دینا شامل ہے۔
صلاحیتوں کی ترقی ، اپنانے کا عمل اور اگلا مرحلہ
جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کو اپنانے کا عمل تیز ہوتا جار ہا ہے ، امریکہ اپنی طویل مدتی تیاری پر بھی توجہ مرکوز کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں’’امریکہ کی پالیسی ہے کہ امریکیوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق خواندگی اور مہارت کو فروغ دیا جائے۔ اس کے لیے اسے تعلیم میں شامل کیا جائے، اساتذہ کو تربیت دی جائے، اور ابتدائی سطح پر آگاہی کو فروغ دیا جائے تاکہ مصنوعی ذہانت کے لیے تیار افرادی قوت اور امریکی اے آئی اختراع کاروں کی اگلی نسل تیار کی جا سکے۔‘‘
اس کے علاوہ حکومتی ادارے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنے نظاموں میں شامل کررہے ہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں ’’ہم ڈیٹا اور اے آئی کی مدد سے سفارت کاری کو مضبوط بنا رہے ہیں، مشن کی مؤثریت بہتر کر رہے ہیں، اور آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘
ان کے مطابق پیغام واضح ہے۔ جیسا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کہہ چکے ہیں ’’مصنوعی ذہانت کی دوڑ جیتنا ناقابلمذاکرات ہے۔‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…
وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کے موقع پر جاری بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’سیوا…
زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل…
نیپال میں 24 ستمبر سے ملک کے کئی حصوں میں مسلسل بارش ہو رہی ہے،…
شدید بارش سے کئی اضلاع میں معمولاتِ زندگی درہم برہم، درخت اور مکانات گرنے سے…