مرکزی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پٹرول کے ایکسپورٹ پر 3 روپے فی لیٹر ونڈفال گینس ٹیکس عائد کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد اب تیل کمپنیوں کو بیرونِ ملک پٹرول فروخت کرنے پر حاصل ہونے والے اضافی منافع کا ایک حصہ حکومت کو ٹیکس کی صورت میں ادا کرنا ہوگا۔ حکومت کے اس فیصلے کو پٹرولیم کمپنیوں کے لیے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ان کی برآمدی آمدنی متاثر ہونے کا امکان ہے۔دوسری جانب حکومت نے ڈیزل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول یعنی جیٹ فیول پر کچھ راحت دی ہے۔ نئے فیصلے کے مطابق ڈیزل پر ایکسپورٹ لیوی کم کر کے 16.5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ جیٹ فیول پر یہ شرح 16 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحیں 16 مئی سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی برآمدات پر روڈ اور انفراسٹرکچر سیس کو صفر رکھا گیا ہے۔ ساتھ ہی ملک کے اندر استعمال ہونے والے پٹرول اور ڈیزل پر موجودہ ایکسائز ڈیوٹی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی۔ حکومت نے مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے بحران کے بعد پہلی مرتبہ پٹرول پر 3 روپے فی لیٹر کا خصوصی اضافی ایکسائز ڈیوٹی نافذ کیا ہے۔گزشتہ چند مہینوں کے دوران ڈیزل اور جیٹ فیول پر عائد ڈیوٹی کی شرحوں میں کئی بار رد و بدل کیا گیا ہے۔ 26 مارچ کو ڈیزل پر 21.50 روپے فی لیٹر اور ایوی ایشن ٹربائن فیول پر 29.5 روپے فی لیٹر ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔ بعد ازاں 11 اپریل کو ان شرحوں میں اضافہ کرتے ہوئے ڈیزل پر 55.5 روپے اور جیٹ فیول پر 42 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ تاہم 30 اپریل کو حکومت نے ایک بار پھر نظرثانی کرتے ہوئے ان شرحوں کو کم کر کے بالترتیب 23 اور 33 روپے فی لیٹر کر دیا تھا۔
ادھر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جنگ سے پہلے عالمی منڈی میں خام تیل تقریباً 73 ڈالر فی بیرل کے آس پاس تھا، لیکن اب اس کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی قیمتیں عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بازار پر بھی دباؤ ڈال سکتی ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس کا بنیادی مقصد ملک میں ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانا اور برآمد کنندہ کمپنیوں کو عالمی قیمتوں کے فرق سے غیر ضروری فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔ وزارت کے مطابق مغربی ایشیا کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی سپلائی متاثر نہ ہو اور گھریلو ضرورتیں بآسانی پوری کی جا سکیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
عامر خان اور کرینہ کپور کی آخری آن اسکرین جوڑی 2022 میں ریلیز ہونے والی…
لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…
تھامسن کے انکشاف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری بنوئے…
وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…
پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…
اکھلیش نے کہا کہ فارم-7 کے ذریعے گاؤں گاؤں اپوزیشن ووٹروں کے نام حذف کرانے…