قومی

Mallikarjun Kharge: ملکارجن کھڑگے نے رام مندر چندے اور طلبہ پر کارروائی پر حکومت سے جواب مانگا

نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران منگل کو راجیہ سبھا میں مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی دوسری بار بھی ملتوی کر دی گئی۔ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے درمیان چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے مؤخر کر دی۔اپوزیشن جماعتیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی غیر موجودگی پر اعتراض جتا رہی تھیں اور ایودھیا کے رام مندر میں مبینہ طور پر عطیات کی چوری اور سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر حکومت سے بیان دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین اور لوک سبھا کے اسپیکر دونوں ایوانوں میں رام مندر سے متعلق معاملے اور طلبہ پر پولیس کارروائی پر بحث کی اجازت دیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے اس معاملے پر بیان دے، اس کے بعد اپوزیشن تفصیلی بحث کے لیے تیار ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ یا تو وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں یا پھر وہ پارلیمنٹ کی توہین کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم معاملات پر حکومت کو جوابدہی سے نہیں بچنا چاہیے۔اس سے قبل بھی دن کے آغاز میں راجیہ سبھا کی کارروائی این ڈی اے اور اپوزیشن اراکین کے شدید ہنگامے کے باعث دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی، ایوان دوبارہ شروع ہونے پر بھی صورتحال معمول پر نہ آ سکی اور کارروائی ایک مرتبہ پھر روکنی پڑی۔راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت نے 70 ایکڑ سے زیادہ زمین شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے حوالے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی رام مندر سے متعلق ہر اہم تقریب، خواہ وہ بھومی پوجن ہو یا پران پرتِشٹھا، میں شریک رہے ہیں، اس لیے مندر سے متعلق سنگین الزامات پر وہ اپنی ذمہ داری سے الگ نہیں ہو سکتے۔

ملکارجن کھڑگے نے مزید کہا کہ وزیر اعظم  مودی کو ایوان میں یہ بتانا چاہیے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، سی بی آئی، محکمہ انکم ٹیکس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں اس معاملے میں کیا کارروائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ “جو لوگ بھگوان رام کے نام پر لوٹ مار کر رہے ہیں، انہیں پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے اور عوام کو گمراہ کرنا بند کرنا چاہیے۔”دوسری جانب کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ کو چلانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی اور وہ ایوان کی کارروائی کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی خواہش نہیں رکھتی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

2 hours ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

3 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

4 hours ago