قومی

وکلاء نے چیف جسٹس کو لکھا خط، دہلی ہائی کورٹ میں اروند کیجریوال کی ضمانت پر روک لگانے سے متعلق کہی یہ بڑی بات

وکلاء نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑکو خط لکھ کردہلی ہائی کورٹ کی طرف سے اروند کیجریوال کی ضمانت پر روک لگانے پرتشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج ای ڈی اورسی بی آئی کے معاملات میں ضمانت کو حتمی شکل نہیں دے رہے ہیں اورلمبی تاریخیں دے رہے ہیں۔ 150 سے زیادہ وکلاء کی طرف سے لکھے گئے میمورنڈم میں ایک مبینہ اندرونی مواصلات پرتشویش کا اظہارکیا گیا ہے، جس میں ٹرائل کورٹ کی چھٹی والے ججوں کو زیرالتواء مقدمات میں حتمی احکامات نہ دینے کوکہا گیا ہے۔

یہ میمورنڈم اس لئے اہم ہے کیونکہ اسے چھٹی والے جج نیائے بندو کی جانب سے 20 جون کو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کومبینہ ایکسائزپالیسی گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دینے کے تناظرمیں بھیجا گیا تھا۔ بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے اروند کیجریوال کی ضمانت پر روک لگا دی تھی۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ اوردہلی کی ضلعی عدالتوں میں کچھ بے مثال طرزعمل دیکھے جا رہے ہیں۔ 157 وکلاء کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج نیائے بندونے اروند کیجریوال کو ضمانت دی تھی، حالانکہ سی جے آئی نے کہا تھا کہ ٹرائل کورٹ کوتیزاور جرات مندانہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہائی کورٹ مقدمات میں پھنس نہ جائے۔

وکلا نے چیف جسٹس کو لکھا خط

تاہم اگلے ہی دن ای ڈی نے اس حکم کودہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ جوچیزاس چیلنج کو انتہائی بے قاعدہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ راؤز ایونیو کورٹ کے حکم (ویب سائٹ پر) اپ لوڈ ہونے سے پہلے ہی بنایا گیا تھا۔ اس میمورنڈم پرعام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے قانونی سیل کے چیف وکیل سنجیو ناسیارکے دستخط بھی ہیں۔ ہائی کورٹ کی طرف سے ٹرائل کورٹ کے ضمانت کے حکم کی فوری فہرست سازی، سماعت اورالتوا کا حوالہ دیتے ہوئے، میمورنڈم میں کہا گیا کہ ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اوراس نے قانونی ماہرین کے ذہنوں میں گہری تشویش پیدا کردی ہے۔

وکلاء نے ہائی کورٹ کے فیصلے پرکیا تشویش کا اظہار
وکلاء نے خط میں کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کی چھٹی والے ججوں کوکوئی ٹھوس حکم نہ دینے کے لئے کہنے والے مبینہ اندرونی مواصلات نے تعطیلاتی بنچوں کی تشکیل کے مقصد کوناکام بنا دیا ہے اورسی جے آئی نے ٹرائل کورٹ کو فوری فیصلہ لینے کے لئے کہا ہے، جس سے تعطیلات کے بینچوں کی تشکیل کا مقصد ختم ہوگیا ہے۔ بیانات کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ نتیجے کے طورپر، بہت سے وکلاء جن کے مقدمات چھٹیوں میں درج تھے، وہ اپنے مقدمات کوحتمی شکل نہیں دے سکے۔ ہم وکلاء برادری کے نمائندوں کے طورپراس طرح کے انتظامی حکم کے خلاف سخت اعتراض درج کروانا چاہتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

2 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

3 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

3 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

3 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

4 hours ago