قومی

Vote rigging in Lok Sabha elections: کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا کا اعلان، لوک سبھا انتخابات میں ووٹ چوری کی تحقیقات کرے گامحکمہ قانون

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے ہفتے کے روز کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں مبینہ ووٹ چوری کے معاملے کی تحقیقات قانون محکمہ کرے گا اور یہ عمل بروہت بنگلورو مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) انتخابات سے پہلے مکمل کیا جائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ فوری طور پر تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں، جس کی سفارشات کے مطابق قانونی کارروائی کی جائے گی۔

راہل گاندھی کے الزامات کے بعد تحقیقات کا فیصلہ

یہ بیان کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے اس الزام کے بعد آیا ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات الیکشن کمیشن نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ’’منصوبہ بندی‘‘ کے تحت کرائے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ ووٹ چوری بی بی ایم پی انتخابات سے پہلے سامنے لائی جانی چاہیے۔

جی پرمیشور کا بیان اور شکایت کا اعلان

اسی روز کرناٹک کے وزیر جی پرمیشور نے کہا کہ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) ریاستی الیکشن کمیشن میں باضابطہ شکایت درج کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اس معاملے میں مرکزی الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کریں گے۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن نے راہل گاندھی سے ان الزامات سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کو کہا ہے۔

الیکشن کمیشن کو ثبوت فراہم کرنے کا عزم

جی پرمیشور نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن کچھ بھی کہے، ہم کمیشن کے اصولوں کے مطابق انہیں معلومات فراہم کریں گے۔ راہل گاندھی کو خود دستاویز دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ چونکہ وہ ہمارے ریاست میں ہیں، کے پی سی سی صدر یہ معلومات فراہم کریں گے۔ ووٹر فہرست میں فرق پایا گیا ہے اور کمیشن کو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔‘‘

مہادیوپورہ میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ چوری کا دعویٰ

7 اگست کو پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس کو کرناٹک میں 16 نشستیں جیتنے کی امید تھی لیکن صرف 9 ملی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے 7 غیر متوقع ہاروں کی تحقیقات کی اور مہادیوپورہ پر توجہ مرکوز کی جہاں ایک لاکھ دو سو پچاس ووٹ چوری کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ ووٹ چوری پانچ مختلف طریقوں سے ہوئی، جن میں ڈپلیکیٹ ووٹر، جعلی اور غلط پتے اور ایک ہی پتے پر بڑی تعداد میں ووٹروں کا اندراج شامل ہے، جبکہ موقع پر ایسی رہائش کا کوئی وجود نہیں پایا گیا۔

الیکشن کمیشن کا ردعمل

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک بار پھر راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق حلفیہ بیان دیں یا اپنے ’’غلط‘‘ الزامات پر قوم سے معافی مانگیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کے ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں، ورنہ عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

4 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

4 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

4 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

5 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago