قومی

Shamim Bano’s fight for justice gains support from Indresh Kumar: مذہب کی آڑ میں زمین پر ڈاکا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا: اندریش کمار

جب کسی عورت کو اپنی آبائی زمین کی حفاظت کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے پڑیں، جب قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود اسے مذہبی نام پر ڈرایا اور دھمکایا جائے، تو یہ نہ صرف اس کی ذاتی تکلیف ہوتی ہے بلکہ اس پوری عدالتی نظام پر سوال کھڑے کرتا ہے، جس پر ہمارا آئین قائم ہے۔ مدھیہ پردیش کی بیٹی شمیم بانو آج اسی المیے سے گزر رہی ہیں۔ ان کا ’’جرم‘‘ صرف اتنا ہے کہ وہ ایک مسلمان خاتون ہیں، اکیلی ہیں اور ایک ایسی زمین کی قانونی وارث ہیں جس پر مذہبی طاقتوں اور وقف مافیا کی نظریں جم چکی ہیں۔

شمیم بانو کی آواز کو تب قومی سطح پر سنا گیا، جب وہ دہلی پہنچیں اور مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر ڈاکٹر شالینی علی سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر شالینی نے ان کی پریشانی کو سنجیدگی سے لیا اور انھیں منچ کے سرپرست شری اندریش کمار سے ملوایا۔ یہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ انصاف کی امید کی اس شمع کو دوبارہ روشن کرنے کی کوشش تھی جو سسٹم کی بےحسی سے مسلسل بجھتی جا رہی تھی۔

اندیش کمار نے دلایا انصاف کا بھروسہ

اندریش کمار نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’’شمیم بانو اکیلی نہیں ہیں۔ جس سماج نے وقف کو مظلوموں اور بے سہارا مسلمانوں کی بھلائی کے لیے بنایا تھا، اسی کو ہتھیار بنا کر عورتوں کی جائیداد پر قبضہ کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ وقف کا مقصد سماجی خدمت ہے، قبضہ نہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ صرف اُجّین کی ایک خاتون کی لڑائی نہیں، بلکہ ہر اس مظلوم کی لڑائی ہے جو مذہب کی آڑ میں ظلم سہہ رہا ہے۔ ہمیں سب کو مل کر نئے وقف ترمیمی قانون کے دیانتدار نفاذ کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ملک بھر کے غریب اور بے سہارا مسلمان اس قانون کو شفافیت اور جواب دہی کی امید سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ اس کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔‘‘

اندریش کمار نے منچ کی جانب سے یہ وعدہ بھی کیا کہ ’’اب کوئی بھی عورت اکیلے نہیں لڑے گی، اور نہ ہی کوئی افسر یا مولانا خود کو قانون سے بالاتر سمجھے گا۔ اس معاملے کی مکمل جانچ کرائی جائے گی اور منچ کی طرف سے ہر ضروری مدد دی جائے گی—قانونی، سماجی اور انتظامی، ہر سطح پر۔‘‘

کیا ہے معاملہ؟

واضح رہے کہ شمیم بانو کی جدوجہد اس زمین کے لیے ہے جس کی رجسٹری سن 1935 میں ان کے دادا محمد حافظ کے نام پر درج ہوئی تھی۔ اُجّین کی گلی نمبر 3، خیر دیامان، توپ خانہ میں واقع 4000 مربع فٹ زمین کا مالکانہ حق برسوں سے ان کے خاندان کے پاس ہے۔ ان کے پاس تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں، جیسے کہ پراپرٹی کی رجسٹریشن، میوٹیشن اور ٹیکس رسیدیں۔ اس کے باوجود اس زمین کے 1800 مربع فٹ حصے پر ایک خیالی مسجد ’مسجد خیر‘ کے نام پر غیر قانونی قبضہ کیا جا رہا ہے۔ نہ وہاں کوئی مسجد تھی، نہ عبادت، نہ وقف کے کاغذات۔ صرف زبردستی کا دعویٰ، مولویوں اور بدمعاشوں کی دھمکیاں اور کاغذی فراڈ۔

سب سے خطرناک پہلو جعلی ڈونیشن ڈیڈ ہے، جس میں جعلی دستخط کر کے زمین پر دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک دستاویزی جعل سازی کا معاملہ ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اسے مذہبی تقدس کے نام پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خاتون کو خاموش کرانے کے لیے ’’مسجد کے خلاف بولنا حرام ہے‘‘ جیسے جملے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی انھیں مختلف قسم کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ یہاں تک کہ اب شمیم بانو کو اپنی جان کا خطرہ بھی محسوس ہونے لگا ہے۔ اس پورے معاملے میں وقف بورڈ کا کردار سب سے زیادہ تشویش ناک رہا ہے۔ وقف بورڈ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

ڈاکٹر شالینی نے کہا-عورتوں کو مذہب کی آڑ میں ان کے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا

ڈاکٹر شالینی علی نے جس حوصلے، حساسیت اور عزم سے شمیم بانو کی جدوجہد کو منچ تک پہنچایا، وہ قابلِ تقلید ہے۔ انھوں نے صاف کہا کہ ’’مذہب یا وقف ادارے کی آڑ میں عورتوں کو ان کے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ منچ ہر اس عورت کے ساتھ کھڑا ہے جو اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ شمیم بانو کی طرف سے حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھے گئے ہیں:

1۔ جعلی ڈونیشن ڈیڈ کی عدالتی و فارنسک جانچ کر کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔

2۔ شمیم بانو اور ان کے خاندان کو تحفظ دیا جائے۔

3۔ جہاں غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ ہوا ہے، وہاں انتظامی کارروائی کی جائے۔

4۔ وقف بورڈ کے کردار کی آزادانہ تفتیش کر کے مجرم افسران کو سزا دی جائے۔

منچ نے کہا کہ یہ صرف ایک عورت کی زمین کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس مظلوم مسلمان سماج کی بیداری کا مسئلہ ہے، جو آج بھی دستاویزات ہونے کے باوجود مذہب کے نام پر خاموش رہنے پر مجبور ہے۔ شمیم بانو کی جدوجہد ایک انتباہ کی مانند ہے جو بتا رہی ہے کہ اگر آج ہم نہ جاگے، تو کل یہ آگ ہر گلی میں پھیلے گی۔ اب فیصلہ حکومت، انتظامیہ اور معاشرے کے ضمیر کو کرنا ہے کہ کیا وہ اس جدوجہد میں ساتھ کھڑے ہوں گے، یا اس خاموشی کا حصہ بنیں گے؟

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

8 hours ago

Jayant Chaudhary meets PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے اہل خانہ کے ساتھ ملے جینت چودھری، اتحاد کا دیا پیغام

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…

8 hours ago

Ronaldo Ends Retirement Speculation: رونالڈو کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں ختم، نیشنز لیگ کے لیے پرتگال کی ٹیم میں شامل

پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…

9 hours ago

Zimbabwe vs Australia: آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کو 84 رنز سے دی شکست، سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی

ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…

9 hours ago

Chief Minister Hemant Soren: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ای ڈی کیس میں ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل جاری رہے گا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…

10 hours ago

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

11 hours ago