دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا۔
نئی دہلی: دہلی حکومت نے ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے قومی راجدھانی کی ہر زمین کو منفرد شناخت دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا ہے کہ اب دہلی میں ہر قطعۂ اراضی کا ’’بھُو آدھار کارڈ‘‘ بنایا جائے گا، جس کے تحت ہر زمین کو 14 ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد شناختی نمبر دیا جائے گا۔ اس نمبر کو یونیک لینڈ پارسل آئیڈینٹیفکیشن نمبر (یو ایل پی آئی این) کہا جاتا ہے، جس سے زمین کے ریکارڈ مکمل طور پر ڈیجیٹل اور محفوظ ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ سے زمین سے متعلق تنازعات میں کمی آئے گی، شفافیت بڑھے گی اور بدعنوانی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق یہ صرف ایک نمبر نہیں بلکہ اراضی سے جڑے جھگڑوں اور بے ضابطگیوں کے خلاف ایک مضبوط ڈیجیٹل ہتھیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم وزیراعظم نریندر مودی کے ڈیجیٹل انڈیا مشن کو آگے بڑھانے کی سمت میں ایک انقلابی کوشش ہے۔
مشن موڈ میں نافذ ہوگی اسکیم
ریکھا گپتا نے بتایا کہ دہلی میں اس نظام کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔ یہ منصوبہ مرکزی حکومت کی وزارتِ دیہی ترقی اور محکمہ اراضی وسائل کی جانب سے 2016 میں شروع کیا گیا تھا، مگر سابقہ حکومتوں نے اسے نافذ نہیں کیا۔ اب دہلی حکومت اسے مشن موڈ میں نافذ کرے گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری محکمہ محصولات کی آئی ٹی شاخ کو سونپی گئی ہے، جو سروے آف انڈیا کے تعاون سے کام کرے گی۔ حکومت کے مطابق ایک معیاری طریقۂ کار (ایس او پی) اور مرحلہ وار ٹائم لائن کے تحت اسے پورے دہلی میں نافذ کیا جائے گا۔
زمین کے تنازعات کے حل میں مددگار
وزیراعلیٰ کے مطابق بھُو آدھار نظام زمین کی ملکیت میں شفافیت یقینی بنائے گا۔ 14 ہندسوں کا یہ کوڈ جیو ریفرنسڈ ہوگا، جس سے زمین کی حدود سے متعلق تنازعات کم سے کم ہوں گے۔ اس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں کے درمیان زمین کے ڈیٹا کا باہمی ربط بہتر ہوگا اور جعلی لین دین یا ایک ہی زمین کی متعدد رجسٹریشن جیسے مسائل پر مؤثر روک لگے گی۔ عام شہریوں کے لیے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ انہیں زمین کی شناخت کے لیے مختلف دستاویزات کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ ایک ہی یو ایل پی آئی این نمبر سے زمین کی مکمل معلومات دستیاب ہو جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ متوسط اور غریب طبقے کے لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے زمین خریدتے ہیں، لیکن غیر واضح ریکارڈ کے باعث قانونی پیچیدگیوں میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ نظام اس غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرے گا۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
حکومت اس منصوبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔ سروے آف انڈیا سے تقریباً دو ٹیرا بائٹ اعلیٰ معیار کا جغرافیائی ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے، جبکہ ڈرون سروے کے ذریعے آرتھو ریکٹیفائیڈ امیجز تیار کی جا رہی ہیں۔ ان معلومات کی مدد سے دہلی کے دیہی علاقوں سمیت 48 دیہات کے لیے درست یو ایل پی آئی این تیار کیے جائیں گے، جو پہلے ہی سوامتو اسکیم میں شامل ہیں۔ اس منصوبے کے لیے پہلے جاری شدہ 132.07 لاکھ روپے کے فنڈز کا انتظام بھی آئی ٹی شاخ نے کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مغربی ضلع کے تلنگ پور کوٹلہ گاؤں میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت 274 یو ایل پی آئی این ریکارڈ کامیابی سے تیار کیے جا چکے ہیں، جو اس اسکیم کی کامیابی کی مثال ہے۔
ہر انچ زمین کا ہوگا ڈیجیٹل حساب
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی حکومت ہر شہری کی جائیداد اور اس کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔ بھُو آدھار دراصل زمین کے لیے آدھار کی طرح کام کرے گا، جس سے ہر انچ زمین کا ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ نظام بدعنوانی کے خاتمے اور زمین سے متعلق شفاف انتظام کے قیام میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ حکومت کو امید ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے دہلی میں زمین کے معاملات زیادہ منظم، شفاف اور عوام دوست بن سکیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…