ترواننت پورم: کیرلم اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے پانچ دن گزر جانے کے باوجود کانگریس اب تک وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان نہیں کر سکی ہے۔ 10 برس بعد ریاست میں اقتدار میں واپسی کرنے والے کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ یعنی یو ڈی ایف میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلسل مشاورت جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کانگریس قیادت وزیر اعلیٰ کے انتخاب سے پہلے تین اہم عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی فیصلہ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے مرکزی آبزرور نے ترواننت پورم میں نومنتخب اراکین اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں حکومت سازی، قیادت اور کابینہ کی تشکیل جیسے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کانگریس ہائی کمان وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں جلد بازی کے بجائے تمام سیاسی اور تنظیمی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
پارٹی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے تین بڑے عوامل کو خاص اہمیت دی جائے گی۔ سب سے پہلے کانگریس اپنے منتخب ارکان اسمبلی کی رائے لے گی تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ زیادہ تر اراکین کس لیڈر کو اپنی قیادت کے لیے موزوں سمجھتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی اور ان کے خیالات کو بھی اہمیت دی جائے گی۔ تیسرا اور سب سے اہم عنصر عوامی مقبولیت ہوگا، جس کے تحت پارٹی یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ عوام میں کون سا لیڈر زیادہ مقبول اور قابل قبول ہے۔ فی الحال ریاست میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے تین بڑے نام سب سے آگے سمجھے جا رہے ہیں۔ ان میں کے سی وینوگوپال، رمیش چنیتھلا اور وی ڈی ستیشن شامل ہیں۔ تینوں لیڈر کانگریس میں مضبوط سیاسی حیثیت رکھتے ہیں اور مختلف دھڑوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ہائی کمان جب کسی ایک نام پر اتفاق کرلے گی تو سب سے پہلے ان تینوں لیڈروں کو فون پر فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تینوں لیڈر پارٹی کے فیصلے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو فوری طور پر نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔ تاہم اگر کسی قسم کے اختلافات سامنے آتے ہیں تو ان لیڈروں کو دہلی طلب کیا جائے گا تاکہ بات چیت کے ذریعے اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ کانگریس قیادت کی کوشش ہے کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے میں کسی قسم کی اندرونی ناراضی سامنے نہ آئے۔ دوسری جانب اتحادی جماعتوں نے اگرچہ اپنی اپنی رائے پارٹی قیادت تک پہنچائی ہے، لیکن کانگریس واضح کر چکی ہے کہ آخری فیصلہ پارٹی ہائی کمان ہی کرے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس اس بار کیرلم میں مضبوط اور متحد حکومت قائم کرنا چاہتی ہے، اسی لیے قیادت کے انتخاب میں ہر پہلو پر غور کیا جا رہا ہے۔
ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے آبزرور اجے ماکن نے کہا کہ کانگریس لیجسلیچر پارٹی نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار دے دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام ارکان اسمبلی کی انفرادی رائے لی گئی ہے اور اس کی تفصیلی رپورٹ تیار کرکے پارٹی صدر کو سونپ دی جائے گی۔ اس سے قبل کانگریس کے آبزرور مکل واسنک اور اجے ماکن نے پارٹی ارکان اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران قیادت کے معاملے پر مختلف تجاویز سامنے آئیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق آئندہ ایک یا دو دنوں میں وزیر اعلیٰ کے نام کا اعلان کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل تیز ہو جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…