قومی

Constitution is Supreme: جسٹس سوریہ کانت کو نشانہ بنانے پر کیرالہ کانگریس کی مشکلات میں اضافہ، کیرالہ یونٹ کے سبھی عہدیداروں کو توہین عدالت کا نوٹس

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے خلاف متنازع سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کے معاملے میں کانگریس کی کیرالہ یونٹ کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو اس معاملے میں کیرالہ کانگریس یونٹ کے تمام عہدیداروں کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ کی آزادی سیاسی سہولت کا معاملہ نہیں ہے اور آئین سب سے بالاتر ہے۔ کوئی بھی شخص یا سیاسی تنظیم آئین سے اوپر نہیں ہوسکتی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر ہمیشہ تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن اظہارِ رائے کی آزادی کو انصاف کی انجام دہی میں مداخلت کے لیے دھمکانے یا دباؤ ڈالنے کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا۔ بنچ نے کہا کہ کوئی شخص خواہ کتنا ہی اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، عدالت کے وقار اور اتھارٹی کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ عدالت نے مزید کہا کہ عدلیہ کی اتھارٹی کو سیاسی منظوری کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کی بنیاد قانون کی حکمرانی پر قائم ہے۔ جہاں انصاف کی فراہمی کا نظام موجود ہے، وہاں قانون کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی سیاسی سہولت یا سیاسی مفاد کا موضوع نہیں ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں ایک سینئر وکیل کو امیکس کیوری (عدالت کا معاون) مقرر کیا ہے، جو اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اس معاملے میں فوجداری یا دیوانی توہینِ عدالت کی دفعات لاگو ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی سے بھی اس معاملے میں معاونت طلب کی ہے۔

12 اکتوبر کو کانگریس کے ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی تھی پوسٹ

اطلاعات کے مطابق کانگریس کی کیرالہ یونٹ کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے 12 اکتوبر کو چیف جسٹس سوریہ کانت کے خلاف ایک پوسٹ کی گئی تھی، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید تنقید کی، جس کے بعد اسے ہٹا دیا گیا۔ بعد ازاں پارٹی نے وضاحت کی تھی کہ متنازع پیغام پوسٹ کرنے کے ذمہ دار شخص کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں وکیل ونیت جندل نے 13 اکتوبر کو چیف جسٹس سوریہ کانت کے سامنے شکایت پیش کی تھی، جسے بعد میں 30 اکتوبر کورٹ پٹیشن کے طور پر درج کیا گیا تھا۔  شکایت میں حکام کو یہ جانچ کرنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی تھی کہ آیا 12 اکتوبر 2026 کی شام سپریم کورٹ کے احاطے میں راہل گاندھی اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والا سیاسی مظاہرہ اور نعرے بازی بغیر اجازت کی گئی تھی؟ اس کے علاوہ یہ بھی جانچنے کی مانگ کی گئی تھی کہ آیا اس مظاہرے سے وکلا، مقدمات کے فریقین، عدالتی افسران یا کورٹ اسٹاف کی آمد و رفت میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی تھی۔ دوسری جانب، کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر سنی جوزف نے پہلے ہی اپنے بیان میں کہا تھا کہ متنازع پیغام پوسٹ کرنے والے شخص کو اس کی ذمہ داری سے ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

CBSE 10th-12th Exam 2027 Date Sheet: سی بی ایس ای نے 10ویں اور 12ویں کے شیڈول کا کیا اعلان، 16 فروری سے امتحانات کا آغاز

سی بی ایس ای نے 10ویں اور12ویں بورڈ امتحان 2027 کی ڈیٹ شیٹ جاری کردی…

14 minutes ago

دہلی، مہاراشٹر سمیت 7 ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ، جاری کئے نئے احکامات، یہاں پڑھیں پوری تفصیل

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت…

1 hour ago

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

2 hours ago