قومی

مسلم لیگ سے پہلی بار بنی کوئی خاتون ایم ایل اے، جانئے کون ہیں فاطمہ؟ الیکشن کے دوران سوشل میڈیا پر بنایا گیا تھا نشانہ

کیرلم کے اسمبلی الیکشن کے نتائج میں اس بار بڑا الٹ پھیردیکھنے کوملا۔ 2026 میں ہوئے الیکشن میں ریاست کی اقتدارکا تاج کانگریس کی قیادت والے یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یوڈی ایف) کے سرسجا۔ برسراقتدارایل ڈی ایف مسلسل پانچویں باراقتدارمیں آنے کی کوشش کررہی تھی، لیکن یو ڈی ایف نے اس کی امیدوں پرپانی پھیردیا۔ اس بارریاست میں ایک تاریخی تبدیلی درج ہوئی ہے۔ الیکشن کے نتائج کے بعد ایک نام کافی سرخیوں میں ہے اوروہ نام ہے فاطمہ تھاہلیہ۔ آیئے جانتے ہیں کہ کون ہیں فاطمہ۔

فاطمہ تھاہلیہ نے پیرکے روز تاریخ رقم کرتے ہوئے انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یوایم ایل) کی پہلی خاتون رکن اسمبلی بننے کا اعزازحاصل کیا۔ انہوں نے کوجھی کوڈ کے پیرامبرا اسمبلی حلقہ سے الیکشن لڑا تھا، جولمبے وقت سے کمیونسٹوں کا گڑھ مانا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے 5,087  ووٹوں کے فرق سے جیت حاصل کی۔

ایل ڈی ایف کے ٹی پی رام کرشنن کو ہرایا

فاطمہ نے کوجھی کوڈ ضلع کے پیرامبرا سیٹ پربرسراقتدار لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) کے کنوینرٹی پی رام کرشنن کوشکست دے کرایک الگ پہچان بنائی۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ سیٹ 1980 سے مسلسل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے قبضے میں رہی تھی۔ سی پی آئی (ایم) مسلسل اس سیٹ پرجیت درج کرتی آرہی تھی، لیکن اس باراس کے قبضے سے یہ سیٹ نکل گئی۔ فاطمہ نے 81,429  ووٹ حاصل کئے، وہیں سینئرلیڈرٹی پی رام کرشنن کو 76,342  ووٹ ملے۔

وکالت سے سیاست تک کا سفر

34 سال کی فاطمہ تھاہلیہ پیشے سے وکیل ہیں۔ کوجھی کوڈ میونسپل کارپوریشن کی کونسلررہ چکی ہیں۔ فاطمہ تھاہلیہ نے اپنی محنت اورواضح نظریے کی بدولت سیاست میں مضبوط پہچان بنائی۔ ان کی جیت کوصرف ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کے اشارے کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔

الیکشن کے دوران سرخیوں میں رہیں فاطمہ

انتخابی مہم کے دوران، کیرلم کے اپوزیشن اتحاد، یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یوڈی ایف)، جس میں کانگریس، آئی یوایم ایل اوردیگر چھوٹی چھوٹی پارٹیاں شامل ہیں، نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی اورالزام لگایا کہ ایل ڈی ایف فاطمہ تاہلیہ کے خلاف فرقہ وارانہ مہم چلا رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سامنے آنے والے تنازعات کی وجہ سے ان کی امیدواری نے بڑے پیمانے پرتوجہ مبذول کروائی۔ انہیں بڑے پیمانے پرسائبرحملوں اورآن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اورسوشل میڈیا پرجنسی استحصال والے قابل اعتراض تبصروں کا سیلاب آگیا۔ حجاب پہننے والی خاتون کے طورپران کی صلاحیتوں پربھی سوال اٹھائے گئے۔ اس کے باوجود انہوں نے مضبوطی سے مقابلہ کیا اورتاریخی جیت درج کی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی اور لیکٹنسٹین کے شہزادے الوئس کی حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم…

45 minutes ago

Iran Restarts Nuclear and Missile Program: ایران نے جوہری اور میزائل پروگرام پھر کیا شروع ، سابق امریکی جنرل کی وارننگ

سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں…

2 hours ago

MLC Election Result: اتر پردیش، بہار سمیت 4 ریاستوں میں آج انتخابی نتائج، کس کے سر سجے گا جیت کا تاج؟

اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت…

3 hours ago