قومی

Delhi Excise Policy case: اروند کیجریوال کا راج گھاٹ پر خراج عقیدت، دہلی ایکسائز پالیسی کیس کی عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ اور ’’ستیہ گرہ‘‘ کا اعلان

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (AAP) کے کنوینر اروند کیجریوال نے منگل کے روز قومی دارالحکومت میں واقع راج گھاٹ پہنچ کر بابائے قوم مہاتماگاندھی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب انہوں نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس کی عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ اور ’’ستیہ گرہ‘‘ اپنانے کا اعلان کیا ہے۔ کیجریوال کے ہمراہ سابق نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا، دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

عدالت میں پیش نہ ہونے کا فیصلہ

اروند کیجریوال نے واضح کیا کہ وہ نہ تو خود عدالت میں پیش ہوں گے اور نہ ہی کسی وکیل کے ذریعے اپنی نمائندگی کروائیں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیس کی کارروائی میں جانبداری اور مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) جیسے مسائل موجود ہیں۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کجریوال نے کہا کہ وہ عدلیہ اور قانونی نظام کا احترام کرتے ہیں، کیونکہ ماضی میں عدالتوں نے انہیں راحت بھی دی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں وہ خود کو ’’ستیہ گرہ‘‘ اختیار کرنے پر مجبور محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’’یہ معاملہ عدالت سے متعلق ہے، ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں جن کی وجہ سے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘‘

منیش سسودیا کا بھی سخت موقف

اسی معاملے میں اس سے قبل منیش سسودیا نے بھی عدالت کو خط لکھ کر واضح کیا ہے کہ وہ کسی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کریں گے۔ انہوں نے انصاف ملنے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے پاس ’’ستیہ گرہ‘‘ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی کجریوال کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر چکی ہے، جس میں جج سے خود کو کیس سے الگ کرنے (Recusal) کی اپیل کی گئی تھی۔

ستیہ گرہ کا حوالہ اور گاندھی جی کی تعلیمات

کجریوال نے اپنے فیصلے کو مہاتما گاندھی کی تعلیمات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وہ ستیہ اور عدم تشدد کے راستے پر چلتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف آئندہ قانونی راستے اختیار کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جس میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنا بھی شامل ہے۔ کجریوال نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کیس میں جج کے بعض روابط اور خاندانی وابستگیاں مفادات کے ٹکراؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کے وکیل اور جج کے اہلِ خانہ کے درمیان پیشہ ورانہ تعلقات ہیں، جس سے غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی حکم میں استعمال ہونے والی زبان نے بھی ان کے خدشات کو بڑھایا ہے، جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ کیس اب ’’صاف ذہن‘‘ کے ساتھ نہیں سنا جا سکتا۔

سیاسی اور قانونی اثرات

یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ سیاسی سطح پر بھی خاصی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ عام آدمی پارٹی مسلسل اس کیس میں شفافیت اور غیر جانبداری کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ عدالت نے واضح کیا ہے کہ محض خدشات کی بنیاد پر کسی جج کو کیس سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔  سیاسی مبصرین کے مطابق، کجریوال اور سسودیا کا ’’ستیہ گرہ‘‘ کا راستہ اختیار کرنا ایک علامتی سیاسی پیغام بھی ہو سکتا ہے، جو عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ راج گھاٹ پر حاضری اور ستیہ گرہ کے اعلان کے ساتھ اروند کیجریوال نے اس معاملے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی، سیاسی ردعمل اور عوامی رائے اس تنازع کو کس رخ پر لے جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

3 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

3 hours ago