قومی

Kedarnath Dham: کیدارناتھ میں صرف 5 ماہ میں 50 ٹن سے زیادہ کچرا جمع، پچھلے پورے سیزن سے ڈھائی گنا زیادہ

نئی دہلی : کیدارناتھ دھام میں اپریل سے اگست 2026 کے درمیان صرف 5 ماہ میں 50.30 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا۔ یہ مقدار گزشتہ سال کی پوری یاترا کے دوران جمع کیے گئے کچرے سے ڈھائی گنا سے بھی زیادہ ہے۔یہ معلومات نگر پنچایت نے اتر پردیش کے نوئیڈا کے آر ٹی آئی کارکن امیت گپتا کی جانب سے دائر کی گئی آر ٹی آئی درخواست کے جواب میں فراہم کی ہیں۔ رواں سال کے پہلے 5 ماہ میں پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار گزشتہ 3 برسوں میں کسی بھی ایک سال کے دوران پیدا ہونے والے مجموعی کچرے سے کہیں زیادہ ہے۔نگر پنچایت کے مطابق کیدارناتھ میں 2023 میں 32.58 میٹرک ٹن، 2024 میں 26.10 میٹرک ٹن اور 2025 میں 21.40 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا تھا۔ اس کے برعکس اپریل سے اگست 2026 کے درمیان صرف 5 ماہ میں ہی 50.30 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوچکا ہے۔

مئی میں سب سے زیادہ 16.3 ٹن کچرا پیدا ہوا

اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا 2023 کے پورے سال کے مقابلے میں تقریباً 54 فیصد، 2024 کے مقابلے میں تقریباً 93 فیصد اور 2025 کے مقابلے میں تقریباً 135 فیصد زیادہ ہے۔نگر پنچایت کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں 1.7 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا، جو مئی میں بڑھ کر 16.3 میٹرک ٹن ہوگیا۔ جون میں 11.5 میٹرک ٹن، جولائی میں 10.5 میٹرک ٹن اور اگست میں 10.3 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوا۔

تقریباً 20 ٹن پلاسٹک کچرا بھی پیدا ہوا

نگر پنچایت نے پلاسٹک کچرے سے متعلق اعداد و شمار بھی فراہم کیے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک کیدارناتھ میں تقریباً 20 میٹرک ٹن پلاسٹک کچرا پیدا ہوچکا ہے۔اس میں سے 18.5 میٹرک ٹن، یعنی 92.5 فیصد پلاسٹک کچرے کو پروسیس کیا جاچکا ہے، جبکہ تقریباً 1.5 میٹرک ٹن پلاسٹک کچرا اب بھی باقی ہے۔نگر پنچایت کے مطابق کیدارناتھ میں لینڈ فل کی گنجائش 30 ہزار مربع فٹ ہے، جس میں سے 28 ہزار مربع فٹ جگہ ابھی باقی ہے۔ ادارے نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران کیدارناتھ میں 4 لینڈ فل بنائے گئے ہیں۔

ہر سال لاکھوں یاتری پہنچ رہے کیدارناتھ

آر ٹی آئی کارکن امیت گپتا نے کہا کہ کچرے کی بڑھتی مقدار کے درمیان لینڈ فل پر انحصار ہمالیائی ماحولیات کے حوالے سے اہم تشویش پیدا کرتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہر سال بڑی تعداد میں یاتری اور سیاح اس انتہائی حساس خطے کا رخ کرتے ہیں۔رواں سال اب تک تقریباً 15 لاکھ یاتری کیدارناتھ پہنچ چکے ہیں۔ گپتا نے کہا کہ آر ٹی آئی کے ذریعے سامنے آنے والے یہ اعداد و شمار کیدارناتھ کے کچرے کے انتظام کے نظام پر بڑھتے دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’صرف 5 ماہ میں کیدارناتھ میں پیدا ہونے والے کچرے کی مقدار گزشتہ برسوں کے پورے یاترا سیزن کے دوران پیدا ہونے والے کچرے سے کہیں زیادہ ہے، جو ہمارے ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ہم خود بنیادی طور پر اس کے ذمہ دار ہیں کہ کیدارناتھ جیسی مقدس اور ماحولیاتی اعتبار سے حساس جگہ کو کچرا گھر میں تبدیل کر رہے ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Banks to remain open on Sunday: تین دن کی  بینک ہڑتال سے پہلے ضروری کام نمٹا لیں یوزر، 28 ستمبر سے کئی خدمات متاثر ہونے کا امکان

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…

6 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

2 hours ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

4 hours ago