رواں سال22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں 26 شہری، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے، ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے ذریعے پاکستان نے کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی سیاحت کی صنعت کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش کی، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے عروج پر ہے۔ حملہ آوروں کے مذموم عزائم تھے کہ وہ سیاحت کو شدید نقصان پہنچائیں اور ملک میں فرقہ وارانہ تصادم کو ہوا دیں۔ تاہم، وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہ ہو سکے، کیونکہ تین دہائیوں میں پہلی بار کشمیری عوام نے پاکستان اور اس کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ان خودجوش مظاہروں نے خطے میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کی۔ کشمیر کی نوجوان نسل، جو اب نوکریوں، تعلیم اور کاروبار پر توجہ مرکوز کر رہی ہے، امن کو ترقی کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے۔ عوام کے ردعمل نے پاکستان اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ کشمیری بھارت کی ترقی کی کہانی کا حصہ بننا چاہتے ہیں، نہ کہ اس کے تنازعات کی تاریخ کے شکار۔
حملے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کے احکامات پر 6 مئی کو بھارتی فوج نے “آپریشن سندور” شروع کیا اور 22 منٹ کے اندر پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں واقع نو دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کر دیا۔ 10 مئی تک بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں، جب تک کہ پاکستانی ڈی جی ایم او نے اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کر کے جنگ بندی کی درخواست نہ کی، جو اب تک برقرار ہے۔ بھارت نے واضح کر دیا کہ اس کے شہریوں کے خلاف کوئی بھی دہشت گردانہ کارروائی جنگی عمل تصور کی جائے گی اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ حملے کے بعد کشمیر کی سیاحت کو بڑا دھچکا لگا، ہوٹل بکنگ منسوخ ہوئیں، اور سیاحوں نے کشمیر آنے کے منصوبے بدل دیے۔ سری نگر، پہلگام، گلمرگ، سونامرگ اور دیگر مقامات پر ہوٹلوں کی شرح اشغال صفر ہو گئی، اور ڈل جھیل، جو عام طور پر سیاحوں سے گہما گہمی رہتی تھی، ویران نظر آئی۔
کشمیر کی معیشت میں سیاحت کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جو لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ حکومت سیاحوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، اور اگرچہ سیاحوں کی تعداد ابھی حملے سے پہلے کی سطح سے کم ہے، لیکن آہستہ آہستہ اضافہ حوصلہ افزا ہے۔ مقامی لوگوں کی لچک، حکومت کی فیصلہ کن مداخلت، اور سیاحت کے شعبے کی بحالی کے لیے اقدامات سے خطہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر دہلی، ممبئی، بنگلور اور دیگر بڑے شہروں میں سیاحتی روڈ شوز کا انعقاد کیا، ٹریول آپریٹرز اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والوں کو شامل کیا، اور سیاحتی مقامات پر سیکیورٹی بڑھائی۔ پہلگام، گلمرگ اور امرناتھ یاترا کے راستوں پر خصوصی سکیورٹی فورسز تعینات کی گئیں۔ عوام کی طرف سے پاکستان کی مذمت اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج نے ظاہر کیا کہ کشمیری اب خوف کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں، اور خطہ امن، خوشحالی اور ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…