کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار
کرناٹک کی کانگریس حکومت میں گزشتہ چند ہفتوں سے قیادت کی تبدیلی کی بحث نے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ بنگلورو سے لے کر دہلی تک میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد ’روٹیشنل سی ایم فارمولے‘ کے تحت سدھارامیا کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ ڈھائی سال بعد ڈی کے شیوکمار کو وزارتِ اعلیٰ کی کمان سونپی جائے گی۔ اب جب ڈھائی سال مکمل ہو چکے ہیں تو ڈی کے شیوکمار کے حامی کئی لیڈر ان کے حق میں اقتدار کی باگ ڈور دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سدھارامیا کبھی پورے پانچ سال بجٹ پیش کرنے کی بات کرتے ہیں اور کبھی کہتے ہیں کہ فیصلہ ہائی کمان کو کرنا ہے۔
نئے روپ، طاقت اور تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے: ڈی کے شیوکمار
قیادت کی تبدیلی کی ان سرگرمیوں کے درمیان ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ آنے والے دنوں میں سب کو نئے روپ، طاقت اور تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دراصل حکومت کی جانب سے عوام اور ریاست کی بھلائی کے لیے کیے جا رہے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بیان دیا۔
ہفتے کو دو گھنٹے تک چلی ہائی کمان کی میٹنگ
ڈی کے شیوکمار کا یہ بیان کانگریس ہائی کمان کی اس میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے جو ہفتے کو دہلی میں سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ کرناٹک کے بحران پر بلائی گئی اس میٹنگ میں راہل گاندھی، ملیکارجن کھڑگے اور کے سی وینوگوپال شامل تھے۔ یہ میٹنگ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی۔
کرناٹک کے ڈپٹی سی ایم ڈی کے شیوکمار فلسفیانہ انداز میں بیان دیتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا: ’’آئیے ہم سب آنے والے دنوں میں اس ریاست میں ایک نیا روپ، نئی طاقت اور ایک نیا بدلاؤ لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔ انسان کی زندگی مستقل نہیں ہوتی۔ صرف وہ کام مستقل ہوتے ہیں جو ہم کرتے ہیں یا چھوڑ جاتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے بھی کہا ہے کہ ہمارے الفاظ ہمیشہ نپے تُلے ہونے چاہئیں اور ہمارے عمل سب سے اہم ہونے چاہئیں۔‘‘ ڈی کے نے مزید کہا کہ جب انسان جنم لیتا ہے تو وہ اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے۔ لیکن جب وہ جاتا ہے تو اپنے اچھے اور برے کئی کرم اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اسی طرح، ہماری حکومت کی زندگی میں بھی ہم آج ایک اہم موڑ چھوڑ رہے ہیں۔
لکشَیوں کو حاصل کرنا پوری طرح ہمارے ہاتھ میں: ڈی کے
ڈی کے شیوکمار نے یہ بھی کہا کہ میں ہمیشہ ایک بات کہتا ہوں، خدا نہ تو ور دان دیتا ہے اور نہ ہی شراپ، وہ صرف مواقع دیتا ہے۔ ہم اُن مواقع کا کیسے استعمال کرتے ہیں، یہی اصل میں اہم ہے۔ ہمارا جنم ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، لیکن اپنے لکشَیوں کو حاصل کرنا پوری طرح ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اور یہی وہ کام ہے جسے آج ہماری حکومت آگے بڑھا رہی ہے۔
قیادت کی تبدیلی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ڈی کے کا بیان
ڈی کے شیوکمار نے اپنے بیانات میں کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کھل کر قیادت بدلنے کی بات کی، لیکن انہوں نے ایک بڑا پیغام دے دیا کہ آنے والے وقت میں ریاست میں بڑی تبدیلی ہوگا۔ ڈی کے کے اس بیان کو ریاست میں قیادت کی تبدیلی سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…