قومی

’ون نیشن، ون الیکشن‘ پرہوئی جے پی سی کی پہلی میٹنگ، انتخابی خرچ پر پرینکا گاندھی نے پوچھے یہ سوال

نئی دہلی: ون نیشن، ون الیکشن سے متعلق جانچ کے لئے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) کی بدھ کو پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں بی جے پی اراکین نے ون نیشن، ون الیکشن کی تجویزکوسراہا، جبکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے ایک ساتھ پورے ملک میں الیکشن کرائے جانے کی تنقید کی۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران وزارت قانون وانصاف کے حکام نے مجوزہ قوانین کی شقوں کا حساب کتاب پیش کیا۔

جے پی سی میں جودلائل پیش کئے گئے، اس میں لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات ایک ساتھ کرانے کے خیال کی حمایت کی گئی۔ اسی دوران کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے اس تجویزکے خلاف ووٹ دیا۔ کانگریس کی جانب سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے جے پی سی میٹنگ میں کہا کہ ایک ملک، ایک الیکشن (ون نیشن، ون الیکشن) کے حوالے سے حکومت کی اس دلیل کا کیا اندازہ ہے کہ اس سے انتخابات پرہونے والے اخراجات میں کمی آئے گی۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اخراجات کم ہوں گے؟ پرینکا گاندھی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا پورے ملک میں ایک ساتھ الیکشن کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) دستیاب ہیں؟

الگ الگ الیکشن ہونے سے بے تحاشہ ہوتا ہے خرچ: بی جے پی

بی جے پی کی طرف سے میٹنگ کرکے حکومت کے حق میں دلیل دی گئی اور کہا گیا کہ الگ الگ وقت پر الگ الگ ریاستوں میں الیکشن ہونے سے خرچ بے تحاشہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ترقی کی رفتارمیں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے اس بل کی مخالفت کی۔ دھرمیندریادونے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف دے علاقائی پارٹیوں کوختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور یہ اراکین اسمبلی اسی سازش کا حصہ ہیں۔ ترنمول کانگریس لیڈر کلیان بنرجی نے پوچھا کہ خرچ کم ہونا ضروری ہے یا لوگوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ کرنا ضروری ہے؟

تشکیل کے بعد جے پی سی کی ہوئی پہلی میٹنگ

واضح رہے کہ ون نیشن، ون الیکشن بل پربی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ پی پی چودھری کی صدارت 39 اراکین پرمشتمل جوائنٹ پارلیممنٹری کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔ پی پی چودھری ملک کے سابق وزیرمملکت برائے قانون رہ چکے ہیں۔ اس کمیٹی میں کانگریس کی پرینکا گاندھی واڈرا، شیوسینا کے شری کانت شندے، جے ڈی یوکے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اورترنمول کانگریس کے کلیان بنرجی سمیت سبھی اہم پارٹیوں کے اراکین شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس یونین ٹیریٹری قوانین (ترمیمی) بل اور آئین (129 ویں ترمیم) بل کوپیش کیا تھا۔ بعد ازاں اسے بحث کے لیے کمیٹی کوبھیج دیا گیا۔ اس کمیٹی کے اراکین میں سابق مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، انل بلونی، بانسری سوراج، پروشوتم روپالا، منیش تیواری اورسمبت پاترا سمیت کئی دیگراراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

6 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

7 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

7 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

8 hours ago