قومی

بی جے پی صدرجے پی نڈا نے’مینٹل بیلنس‘ کہنے پرراجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملیکا ارجن کھڑگے سے مانگی معافی، کہا- میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں

نئی دہلی: پارلیمنٹ میں آپریشن سندورپربحث کے دوران ایک لمحہ ایسا آیا، جب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جے پی نڈا کو راجیہ سبھا میں اپنے الفاظ پرمعافی مانگنی پڑی۔ یہ پورا معاملہ اس وقت ہوا جب جے پی نڈا کانگریس پرحملہ کر رہے تھے۔ وہ کانگریس کے سینئررکن پارلیمنٹ ملیکا ارجن کھڑگے کواپنی تقریرکے بعد گھیررہے تھے۔ جے پی نڈا نے کہا کہ کھڑگے نے پی ایم مودی کے بارے میں جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ ان کے قد سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ اس دوران انہوں نے حملہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کا درد سمجھ سکتا ہوں کیونکہ 11 سال اپوزیشن میں بیٹھنے کی وجہ سے وہ ذہنی توازن (مینٹل بیلنس) کھوچکے ہیں۔

بی جے پی صدراور راجیہ سبھا میں پارٹی کے لیڈرجے پی نڈا کے یہ کہتے ہی کانگریس جارحانہ ہوگئی۔ کانگریس اراکین نے ایوان میں ہنگامہ شروع کردیا۔ اس پرجے پی نڈا نے کہا – میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ یہ ذہنی عدم توازن نہیں ہے، بلکہ ملیکا ارجن کھڑگے کے جذباتی حالت میں کہے گئے الفاظ ان کی پارٹی اوران کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے، میں یہی کہنا چاہتا ہوں۔

تب نہرو نے کہا تھا کہ عوام سے کچھ بھی چھپایا نہیں جانا چاہئے

اس سے پہلے کانگریس لیڈر ملیکا ارجن کھڑگے نے آپریشن سندورپربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ سال 1962 میں جب ہندوستان-چین جنگ چل رہی تھی، تب جواہرلال نہرو نے چند اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے مطالبہ پرخصوصی سیشن بلایا تھا۔ اس وقت مانگ اٹھی تھی کہ سیکریٹ سیشن (خفیہ میٹنگ) بلائی جائے، لیکن انہوں نے (نہرو) کہا کہ عوام سے کچھ بھی چھپایا نہیں جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تھی ہماری جمہوریت۔ موجودہ حکومت نہ تو خصوصی سیشن بلاتی ہے اور نہ سچائی سامنے لاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب آل پارٹی میٹنگ ہوتی ہے تو وزیراعظم نریندر مودی انتخابی تشہیرمیں مصروف ہوجاتے ہیں۔ اگر وزیراعظم مودی میں سننے کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ کرسی پر بیٹھنے کے لائق نہیں ہیں۔

ایک دن آئے گا جب آپ کا غرور ٹوٹے گا

انہوں نے کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام حملہ ہوا۔ اس کے بعد لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور میں نے وزیراعظم مودی کو خط لکھ کر خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ کیا، لیکن ہمیں اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا۔ وزیراعظم مودی کے اندر اتنا غرور ہے کہ وہ اپوزیشن کے خط کو جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ ایک دن آئے گا، جب آپ کا غرور ٹوٹے گا۔ وزیراعظم مودی کو لوگوں کے گلے پڑنے کی فرصت ہے، لیکن اپوزیشن کے لیڈران کو جواب دینے کا وقت نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Akhilesh Yadav PDA Rath Yatra: رائے بریلی سے اکھلیش نے نکالی پی ڈی اے رتھ یاترا، سماج وادی پارٹی-کانگریس اتحاد کی تازہ صورتحال

2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے اکھلیش یادو نے کانگریس کے مضبوط علاقے…

42 minutes ago

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

3 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

4 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

5 hours ago