قومی

JNU Mob Lynching: جے این یو ماب لنچنگ! کیا آپ نے دیکھی آدھی رات کی جھڑپ کی ویڈیو؟

دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی ایک بار پھر طلبہ سیاست کے معاملے پر خبروں میں ہے۔ دیر رات کیمپس میں اے بی وی پی اور لیفٹ ونگ طلبہ تنظیموں کے درمیان مبینہ جھڑپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اے بی وی پی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے کارکنان پر 100 سے 150 افراد کی بھیڑ نے حملہ کیا، جسے ’ماب لنچنگ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں پورا معاملہ۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

دارالحکومت دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پیش آئے مبینہ تصادم کے معاملے پر نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے عہدیداروں کا الزام ہے کہ گزشتہ 7 سے 8 دنوں سے لیفٹ ونگ طلبہ تنظیموں کی ہڑتال جاری تھی، جس کے دوران دیر رات کیمپس کا ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا۔جے این یو ایس یو کے جوائنٹ سیکریٹری اور اے بی وی پی لیڈر ویبھو مینا کے مطابق، 300 سے 400 نقاب پوش افراد کی بھیڑ نے اسٹڈی روم میں پڑھ رہے طلبہ کو زبردستی باہر نکال دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وجے نامی ایک کارکن کو 100 سے 150 افراد نے گھیر کر حملہ کیا، جسے انہوں نے ’ماب لنچنگ‘ قرار دیا۔ اے بی وی پی نے یہ بھی الزام لگایا کہ موقع پر موجود سکیورٹی گارڈز اور پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔دوسری جانب جے این یو میڈیا کنوینر اور اے بی وی پی لیڈر وجے جیسوال نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ پہلے سے منصوبہ بند تھا کیونکہ صرف اے بی وی پی کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔

طالبات پر حملے کا الزام

اے بی وی پی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ کچھ طالبات پر کرسیوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ الزام ہے کہ جب طالبات ویڈیو ریکارڈنگ کر رہی تھیں تو ان کے موبائل فون چھیننے کی کوشش بھی کی گئی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کچھ افراد پتھر اور ڈنڈے لیے کیمپس میں گھومتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان الزامات میں جے این یو اسٹوڈنٹس یونین (جے این یو ایس یو) کے بعض عہدیداروں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ابھی تک ان دعوؤں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

سکیورٹی انتظامات پر اٹھے سوالات

واقعے کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ اور سکیورٹی نظام کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکار موقع پر موجود تھے لیکن انہوں نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ فی الحال یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ سیاست کی طویل تاریخ رہی ہے اور مختلف نظریات رکھنے والی طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ اس تازہ تنازع نے ایک بار پھر کیمپس کی سکیورٹی اور طلبہ سیاست کی سمت پر بحث چھیڑ دی ہے۔ فی الحال سرکاری جانچ اور تمام فریقوں کے بیانات سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے کی مکمل حقیقت واضح ہو سکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی کی اصل وجہ کا پتہ لگائے گی نئی تجربہ گاہ، مودی حکومت کی اہم پہل

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ملک کی پہلی خصوصی اے اے ٹی ایل تجربہ…

5 minutes ago

Gold-Silver Price: سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، تین دن میں چاندی 10,100 روپے سستی

سونے کے دام میں بھی 3,610 روپے کی کمی، تہواروں کے موسم میں خریداری کا…

14 minutes ago

ODI Series: ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا، زمبابوے کو دورے کی پہلی جیت کی تلاش

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ اتوار…

53 minutes ago

Jio Platforms IPO: شیئر بازار میں JIO کی شاندار انٹری کی تیاری، لسٹنگ کے ساتھ بھارت کی ٹاپ 3 کمپنیوں میں ہوگی شامل

ریلائنس انڈسٹریز کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان زبردست…

1 hour ago