قومی

HM Amit Shah Interacts With Bharat Taxi Drivers: پانچ سو روپے کی سرمایہ کاری پر منافع میں شراکت، امت شاہ نے بھارت ٹیکسی کے ڈرائیوروں کو سمجھایا بزنس ماڈل

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے پیر کے روز بھارت ٹیکسی سے وابستہ ڈرائیوروں سے ملاقات کر کے انہیں اس نئے کوآپریٹو رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم کے بزنس ماڈل کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض 500 روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کے ذریعے ڈرائیور نہ صرف مقررہ کرایہ حاصل کریں گے بلکہ منافع میں بھی براہ راست حصہ دار بنیں گے۔ امت شاہ نے 5 فروری کو دہلی میں ملک کے پہلے کوآپریٹو بنیاد پر قائم رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم بھارت ٹیکسی کا باضابطہ آغاز کیا تھا۔ دو ماہ کے کامیاب پائلٹ آپریشن کے بعد اس سروس کو دہلی-این سی آر اور گجرات میں شروع کیا گیا ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ آئندہ دو برسوں میں اسے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک وسعت دی جائے۔

ڈرائیوروں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ اس ماڈل کا بنیادی تصور یہ ہے کہ محنت کرنے والا ہی منافع کا حقدار ہو، نہ کہ کوئی بیرونی سرمایہ دار۔ انہوں نے کہا کہ روایتی رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں میں ڈرائیوروں کی کمائی کا بڑا حصہ بطور کمیشن کاٹ لیا جاتا ہے، جبکہ بھارت ٹیکسی میں مالکان خود ڈرائیور ہوں گے۔ ان کے مطابق فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں اصل مالک وہی ہے جو گاڑی چلا رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ ہر ڈرائیور کو صرف 500 روپے بطور سرمایہ جمع کرانے ہوں گے۔ اگر تین سال بعد پلیٹ فارم کو 25 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے تو اس کا 20 فیصد، یعنی پانچ کروڑ روپے، کوآپریٹو کیپٹل کے طور پر اکاؤنٹ میں جمع ہوگا، جبکہ 80 فیصد رقم ڈرائیوروں میں تقسیم کی جائے گی۔ منافع کی تقسیم گاڑی کے چلنے والے کلومیٹر کے حساب سے ہوگی، جس سے فعال ڈرائیوروں کو زیادہ فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں ڈرائیوروں کو طے شدہ کرایہ ملے گا، لیکن چونکہ وہ پلیٹ فارم کے شریک مالک ہیں، اس لیے انہیں منافع میں حصہ بھی ملنا چاہیے۔ البتہ اس کے لیے تین سال کا صبر ضروری ہوگا تاکہ پلیٹ فارم مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہو سکے۔

ملک میں اس وقت رائیڈ ہیلنگ مارکیٹ پر چند بڑی کمپنیوں کا غلبہ ہے، جو بھاری کمیشن اور سرج پرائسنگ کے لیے جانی جاتی ہیں۔ بھارت ٹیکسی کو ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ 2002 کے تحت رجسٹر کیا گیا ہے اور 6 جون 2025 سے اس کا باقاعدہ آپریشن شروع ہوا۔ یہ پلیٹ فارم زیرو کمیشن اور سرج فری پرائسنگ ماڈل پر کام کرتا ہے، جسے غیر ملکی سرمایہ کاری سے چلنے والے پلیٹ فارمز کے مقابل ایک دیسی متبادل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ڈرائیوروں کو بااختیار بنانا اور انہیں باعزت روزگار کے ساتھ منصفانہ منافع فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ماڈل ملک بھر میں کامیاب ہوگا اور لاکھوں ڈرائیوروں کی معاشی حالت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

8 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

10 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

10 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago