فائل فوٹو (پی ٹی آئی)
جموں و کشمیر حکومت نے ہفتے کے روز ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے ریاست میں جماعتِ اسلامی (JeI) اور فلاحِ عام ٹرسٹ (FAT) سے منسلک 215 اسکولوں کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کا حکم جاری کیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ان اسکولوں کے طلبا کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ اور بہتر نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ سرکاری حکم نامے کے تحت ان اسکولوں کی موجودہ مینجنگ کمیٹیوں کی معیاد ختم ہو چکی ہے اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس میں ان پر منفی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان اسکولوں کا کنٹرول فی الفور متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر کو سونپا جائے گا۔ وہ اسکولوں کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد نئی مینجمنٹ کمیٹیوں کی تجویز پیش کریں گے۔
یہ قدم جموں و کشمیر اسکول ایجوکیشن رولز 2010 کے تحت حاصل اختیارات کے تحت اٹھایا گیا ہے، تاکہ اسکولوں میں تعلیم کا معیار قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے مطابق برقرار رکھا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز اور مجسٹریٹس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مشاورت اور تعاون کے ساتھ فوری اقدامات کریں، تاکہ طلبا کے تعلیمی سفر میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (JKNC) کے لیڈر اور رکن اسمبلی ریاض احمد خان نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نیت اور جاری کردہ حکم میں تضاد پایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر تعلیم سکینہ نے پہلے بیان دیا تھا کہ قریبی سرکاری اسکولوں کے پرنسپل ان اسکولوں کا عبوری انتظام سنبھالیں گے، لیکن اب جاری کردہ حکم میں کچھ اور ہی کہا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر تعلیم نے سوشل میڈیا پر وضاحت دی تھی کہ اسکولوں کی تصدیق تک قریبی اسکولوں کے سربراہ ان کا انتظام سنبھالیں گے، مگر اب جو حکم آیا ہے وہ اس سے مختلف ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…