بہار اسمبلی انتخابات کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔ اس دوران لا لُو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاب یادو اپنی الگ پارٹی جن شکتی جنتا دل (JJD) کے ساتھ انتخابی میدان میں اُتر کر چناؤ میں سرگرم نظرآ رہے ہیں۔ مہوا سیٹ سے انتخابات لڑنے والے تیج پرتاب نے اپنے مخالفین کو نہیں بلکہ اپنے چھوٹے بھائی تیجسوی یادو کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، یہ سیاسی نشانہ تھا۔ اسی دوران ان کا ایک اور پلان بھی خبروں کی زینت بن گیا، جس کے ساتھ ہی بہار انتخابات میں بھارت-پاکستان اور کرکٹ کی انٹری ہو گئی ہے۔
مہوا کے لیے ایسا وعدہ جس نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب کی
تیج پرتاب یادو نے مہوا سیٹ کے لیے ایک ایسا وعدہ کیا ہے جو پورے ملک کی توجہ حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہوا میں ہمیں اچھا رسپانس مل رہا ہے۔ ہم نے یہاں میڈیکل کالج دیا ہے اور اب جیتنے کے بعد یہاں انجینئرنگ کالج بھی قائم کریں گے۔ اتنا ہی نہیں، ہم مہوا میں کرکٹ اسٹیڈیم بھی بنائیں گے اور بھارت اور پاکستان کا میچ کروائیں گے۔
بھائی تیجسوی یادو پر تنقید
بھائی تیجسوی یادو پر تنقید کرتے ہوئے تیج پرتاب نے کہا کہ ابھی وہ ’’جن نایاک‘‘ نہیں بن سکتے کیونکہ وہ اپنے بل بوتے پر نہیں بلکہ والد لا لُو پرساد یادو کے بل بوتے پر ہیں۔ جن نایاک لوہیا جی، کرپوری جی اور لا لُو پرساد یادو ہیں۔ تیجسوی جن نایاک نہیں بن سکتے۔ تیج پرتاب نے پارٹی کے سوال پر کہا کہ اب میں آر جے ڈی میں نہیں ہوں، مجھے کسی عہدے کا لالچ نہیں ہے۔ اگر RJD میں مجھے کوئی عہدہ ملے، تو سب سے پہلے اسے ٹھکرا دوں گا اور کبھی کسی کے ساتھ اتحاد نہیں کروں گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران…
اویسی نے حال ہی میں بھوپال میں منعقد اپنے پروگرام کا بھی ذکر کیا۔ وہاں…
واقعے کے بعد سرکاری طبی مرکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر بھی سوال…
پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن…
ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے دہلی پولیس پارک اور اس کے آس پاس…
گزشتہ ہفتے روس اور یوکرین دونوں نے توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے…