جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد۔ (فائل فوٹو)
Jammu and Kashmir Politics: جموں وکشمیر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت میں، دو سینئر لیڈران، جوسابق وزیربھی ہیں، جمعہ (27 جون) کوانڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے۔ دونوں قائدین تاج محی الدین اورغلام محمد سروری نے جموں و کشمیرکانگریس کے صدراورپارٹی کے دیگرقائدین کی موجودگی میں دوبارہ پارٹی میں شمولیت اختیارکی۔ تاج محی الدین اور غلام محمد سروری دونوں نے غلام نبی آزاد کی ڈیموکریٹک پروگریسوآزاد پارٹی کی تشکیل کے بعد کانگریس سے تعلقات ختم کرکے ان کی پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔ تاہم، وہ کچھ وقت تک وہاں رہےاور2024 کے اسمبلی انتخابات آزاد امیدوارکے طور پرالیکشن لڑا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرسید ناصرحسین، جموں وکشمیرکے ریاستی صدر (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید کرّا اور سینئرپارٹی لیڈرغلام احمد میر سمیت دیگر کی موجودگی میں سری نگرمیں پارٹی میں شامل کرایا۔
کئی لوگ ابھی بھی ہمارے رابطے میں ہیں: طارق کرّا
جموں وکشمیر ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید کرّا نے کہا کہ سابق وزیرتاج محی الدین اور غلام محمد سروری کے پھر سے شامل ہونے سے کانگریس داخلی اور باہری دونوں طرح سے مضبوط ہوگی۔ کانگریس چھوڑکر دیگرپارٹیوں میں شامل ہوئے کئی لوگ ابھی بھی ہمارے رابطے میں ہیں۔
‘اگست 2024 میں ہی پارٹی میں شامل چاہتے تھے’
ایک سینئرپارٹی لیڈر نے کہا، “دونوں لیڈران نے اگست 2024 میں کانگریس پارٹی میں پھر سے شامل ہونے کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا، لیکن راہل گاندھی سمیت پارٹی کے سینئر قیادت نے اس فیصلے پرروک لگا دی تھی، جنہوں نے مقامی قیادت کو انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔” یہ واپسی دیگراہم سیاسی شخصیات چودھری گلزار کھٹانا اور محمد امین بھٹ کے کانگریس میں لوٹنے کے بعد ہوئی ہے۔ اس سے جنوبی کشمیر میں پارٹی کے امکانات میں اضافہ ہوگیا ہے، جہاں نیشنل کانفرنس نے 2024 کے الیکشن میں 16 میں سے 10 سیٹیں جیتی ہیں۔
‘کچھ لوگ پہلے سے ہی پائپ لائن میں ہیں’
طارق حمید کرّا نے کہا کہ کئی لوگ جو یا تو کانگریس چھوڑچکے ہیں یا دیگر پارٹیوں میں شامل ہوگئے ہیں، وہ ابھی بھی ہم سے جڑنے کے لئے رابطے میں ہیں۔ کچھ لوگ پہلے سے ہی اس عمل کے تحت پائپ لائن میں ہیں اور کئی لوگ ہمارے رابطے میں ہیں اور مستقبل میں ان کے پارٹی میں شامل ہونے کی امید ہے۔
‘کانگریس چھوڑنا ایک غلطی تھی’
انہوں نے کہا، دونوں قائدین تاج محی الدین اورغلام محمد سروری کے شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ انفرادی طورپرشامل ہوئے ہیں۔ ان کی مقامی سطح پرمضبوط پوزیشن ہے اورجب ہم ان کے علاقوں میں پروگرام منعقد کریں گے تو آپ خود ہی ان کے اثرکودیکھیں گے۔ کانگریس چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایک اورتنظیم بنائی اورآج انہوں نے کھلے طورپراعتراف کیا کہ کانگریس چھوڑنا ایک غلطی تھی اور انہوں نے اس کے لئے معافی بھی مانگی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیڈران کا جائزہ لینے کے لئے ان کے پاس ایک مناسب طریقہ کاراور عمل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…