بھارت ایکسپریس اردو-
مولانا سید ارشد مدنی جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے۔
نئی دہلی: جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی صدارت میں دفترجمعیۃعلماء ہند میں منعقدہوا، اجلاس کے شرکاء نے ملک کے موجودہ صورتحال پر غوروخوض کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، شدت پسندی، امن وقانون کی ابتری، اقلیتوں اورخاص کر مسلمانوں کے ساتھ مذہب کی بنیاد پرامتیازی سلوک، عبادت گاہ ایکٹ کے باوجودمدارس ومساجد کے خلاف فرقہ پرستوں کی جاری مہم اورخاص طورپر آسام میں جاری انخلا اور50 ہزارسے زائد مسلم خاندانوں کو صرف مذہب کی بنیادپر بلڈوزکرنے کی کارروائی پراورفلسطین میں اسرائیل کی جارحانہ دہشت گردی پرسخت تشویش کا اظہارکیا گیا اوران جیسے بہت سارے مسائل پر تبادلہ خیال ہوا۔
جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی نے ملک کے موجودہ سیاسی اورسماجی حالات پرسخت تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے ایک دومسائل ہوں توانہیں بیان کیا جائے، یہاں تو مسائل کا ایک انبارہے، ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتاکہ دوسراپیدا کردیا جاتا ہے، ایک تنازعہ ٹھنڈا نہیں ہوتاکہ دوسرا تنازعہ کھڑا کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرچہارجانب سے مسلمانوں پرحملے ہورہے ہیں اوریہ سب کچھ منصوبہ بند طریقہ سے ہورہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندومسلمان کرنے کے علاوہ حکومت اورفرقہ پرستوں کے پاس کوئی دوسرا ایشوہی نہیں رہ گیا، اس وقت ملک کے حالات جس قدرتشویشناک ہے اس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی، اقتدارکی تبدیلی کے بعد یکے بعد دیگرے جو واقعات پیش آرہے ہیں اس سے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا ہے کہ ہندوستان فسطائیت کی گرفت میں چلاگیا ہے، فرقہ پرست اورانتشارپسند قوتوں کا بول بالاہوگیا ہے، تاریخ شاہد ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، تہذہب اورمذہب کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی ہے اسے قربانی دینی پڑتی ہے، آج ملک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں نفرت کوحب الوطنی کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے اورظالموں کو قانون کی زدسے بچایا جا رہا ہے بلکہ ملک میں فرقہ واریت کی آگ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ملک کا وجود جھلس رہا ہے۔
فرقہ پرست ذہنیت کو کھلا میدان مل گیا: مولانا ارشد مدنی
مولانا ارشد مدنی نے صاف لفظوں میں کہا کہ آزادی کے بعدہی سے فرقہ پرست ذہنیت کوکھلا میدان مل گیا، حکومت نے اس ذہنیت کوختم کرنے کے لئے کبھی کوئی مؤثرکارروائی نہیں کی ایسے میں تنہا جمعیۃ علماء ہند ایک ایسی سیکولرجماعت تھی جوہرسطح پرفرقہ وارانہ ذہنیت کا مقابلہ کررہی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کی لڑائی کسی فرد یا تنظیم سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے کیونکہ ملک میں قانون وانتظام کی صورتحال کوبرقراررکھنا اورملک کے ہر شہری کوتحفظ فراہم کرنا اسی کی ذمہ داری ہے، چنانچہ ملک میں جب جب مسلمانوں کے خلاف کوئی مسئلہ کھڑا کیا جاتا ہے ہم اس کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس میں فریق حکومت ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے آگے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد جب ہمارے بعض اکابرین نے اپنے مسائل کولیکرسڑکوں پراترنے کی بات کہی تودوسرے اکابرین نے اس کی مخالفت کی ان کا موقف تھا کہ ہمیں اس حکمت عملی کواختیارکرنا چاہئے کہ مسلم عوام کا مقابلہ فرقہ پرستوں سے نہیں حکومت سے ہواگرہم سڑکوں پراترے توٹکراؤکی صورتحال پیداہوسکتی ہے اوریہ بات ہمارے لئے ہی نہیں ملک کے لئے بھی نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہے انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند اپنے اکابرین کے بتائے ہوئے راستہ پرپوری مضبوطی اورکامیابی کے ساتھ گامزن ہے ٹکراؤ کی سیاست کی جگہ ہم قانونی طورپرلڑائی لڑرہے ہیں اوراس میں ہمیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔
آسام میں مسلمانوں کونشانہ بنائے جانے کا الزام
مولانا مدنی نے دیگر اہم مسائل کے ساتھ ریاست آسام کا خاص طورپرذکرکیا اورکہا کہ آسام میں پچھلے کچھ عرصہ سے مسلم آبادیوں کو نشانہ بنا کراس میں رہنے والوں کوبے گھرکردینے کی منصوبہ بند مہم چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایساکرکے مسلم بستیوں کونہیں آسام میں ملک کے آئین وقانون کوبلڈوزکیا جارہا ہے، یہ صرف سیاسی اورمذہب کی بنیاد پرکی جانے والی قابل مذمت کارروائی ہے مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کی شہریوں جیساسلوک ہورہا ہے، جس کی مذمت ملک کا ہرانصاف پسند شہری کررہاہے، مگر ریاست کے وزیراعلیٰ کونہ آئین وقانون کی پرواہ ہے اورنہ ہی عدلیہ کا خوف یہی وجہ ہے کہ جب بعض معاملوں میں سپریم کورٹ میں بلڈوزرکارروائی پر روک لگا دی تودوسری مسلم بستیوں کو نشانہ بنایاجارہاہے یہ ظلم ایسا ہے جس کولفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مسلمانوں کوبے گھرکرکے انہیں ریاست سے باہرکردینے کی ایک منظم سازش ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ نے کیا یہ اہم فیصلہ
جمعیۃعلماء آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفراورآمسوکے صدررضاء الکریم دیگر لوگوں کے ساتھ دہلی میں موجودہیں اورسپریم کورٹ کے وکلاء کے ساتھ میٹنگوں کا سلسلہ چل رہا ہے جمعیۃعلماء ہند کی مجلس عاملہ کے فیصلہ کے مطابق ان شاء اللہ جلدہی سپریم کورٹ میں اس کے خلاف پٹیشن داخل کردی جائے گی،مجلس عاملہ غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانیت سوزمظالم کی شدید مذمت کرتی ہے تقریبا ایک لاکھ انسانوں کا قتل اورعام شہریوں کو بھوک پیاس سے مارنا دہشت گردی کی بدترین مثال ہے، اس کے علاوہ گریٹراسرائیل کی فتنہ انگیزی اورغزہ پر مکمل قبضہ کا اعلان فلسطینوں کومٹانے اورباقی ماندہ زمین ہڑپنے کی بدترین سازش ہے، مجلس عاملہ جمعیۃعلماء ہند غزہ میں جنگ بندی کے لئے بین لاقوامی اورعالمی طاقتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غاصب اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کریں اس کے ساتھ خوراک، ایندھن اورفوری طبی امدادکے لئے راستوں کو کھلوائیں اور حکومت ہند سے بھی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اسرائیل کے جارحانہ اورظالمانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اس کے ساتھ تمام فوجی اوراسٹریٹجک تعلقات کو معطل کرے۔
مظلوم فلسطینیوں کی کازکی حمایت کرنے کی اپیل
جمعیۃعلماء ہند عام شہریوں اوراداروں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کی کازکی حمایت کریں اورمظلوموں کی آواز بنیں، جمعیۃعلماء ہند کا یہ ماننا ہے کہ اس تباہی وبربادی میں امریکہ کا ہاتھ ہے اورفلسطین میں عربوں کی نسل کشی میں وہ اول نمبر کا شریک ہے اوروہ یہ چاہتاہے کہ غزہ کو انسانی آبادی سے خالی کرکے یہاں یہودیوں کوبسایا جائے لیکن ان شاء اللہ ہرگزایسانہیں ہوگا، جمعیۃعلماء ہند کا شروع ہی سے یہ موقف رہاہے کہ ایک آزاداورخودمختارریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدارحل ہے ان ناگفتہ بہ اورخطرناک حالات میں امریکہ اوراس کے صدرکی غاصب اورظالم اسرائیل کی بے جاحمایت انتہائی شرمناک اورقابل مذمت ہے۔ مجلس عاملہ غزہ کے مجاہدین کے ہمت وجرأت کوسلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ اسرائیل اوروہ تمام ممالک جوحماس کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، آج بری طرح ناکام ہیں، اس منظرنامہ کو قائم رکھنے کے لئے بلاشبہ غزہ کے ایک لاکھ شہیدوں نے اپنا خون دیا ہے جمعیۃ علماء ہند حریت پسند فلسطینیوں کو اپنے قلبی ہمدردی کا یقین دلاتی ہے اوران کے مطالبہ حریت وآزادی کی دل وجان سے تائید کرتی ہے دعاگوہے کہ اللہ تعالیٰ فلسطینیوں کے حوصلہ اوران کی ہمت کوبلند رکھتے ہوئے ان کی نصرت فرمائے نیزاللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دشمنوں کونیست ونابود اورتہہ وبالا کردے، آمین۔
اجلاس میں اہم شخصیات نے کی شرکت
اجلاس میں صدرجمعیۃ کے علاوہ،نائب صدرمولانا سید اسجد مدنی، ناظم عمومی مفتی سید معصوثاقب، مفتی غیاث الدین رحمانی حیدرآباد، مولانا بدراحمد مجبیبی پٹنہ، مولاناعبداللہ ناصربنارس، قاری شمس الدین کلکتہ، مفتی اشفاق احمد اعظم گڑھ،حاجی سلامت اللہ دہلی، فضل الرحمن قاسمی،مفتی عبدالقیوم منصوری گجرات،پروفیسرنصراللہ مدراس، مولانا حلیم اللہ قاسمی ممبئی، مفتی اشرف عباس قاسمی دیوبند،مولانا سیداشہدرشیدی مرادآباد،مفتی محمد اسماعیل مالیگاؤں،مولانا عبدالرشیدقاسمی آسام، مولانا مشتاق احمدعنفرآسام، فضیل احمد ایوبی ایڈوکیٹ دہلی، کے علاوہ بطورمدعوئین خصوصی مولانا محمد راشد راجستھان،مولانا محمد مسلم قاسمی دہلی،مولانا محمد احمد بھوپال، مولانا عبدالقیوم مالیگاؤں، مفتی حبیب اللہ جودھپور،جناب احتشام الحق جامعہ ملیہ اسلامیہ وغیرہ شریک ہوئے۔ اجلاس کا اختتام صدرمحترم کی دعاپرہوا۔
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…
کوسل مینڈس 99 رنز کے اسکور پر آؤٹ قرار دیے گئے تھے۔ 31ویں اوور میں…
آئی ایم ڈی کے مطابق، 25 ستمبر کو دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت…
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…