نئی دہلی، 12 دسمبر 2025: جامعہ ہمدرد (ڈیِمڈ ٹو بی یونیورسٹی) نے آج وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند کے فلیگ شپ پروگرام گیان بھارتَم کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کا مقصد بھارت کے قیمتی مخطوطاتی ورثے کے تحفظ، دیکھ بھال، ڈیجیٹائزیشن، ترجمہ اور تحقیقی سرگرمیوں کو مضبوط بنانا ہے۔ اس ایم او یو کے بعد جامعہ ہمدرد کو باضابطہ طور پر کلسٹر سینٹر مقرر کیا گیا ہے، جس کے تحت وہ اپنے مخطوطاتی ذخیرے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں قائم بیس تک کلسٹر پارٹنر مراکز کی رہنمائی، ہم آہنگی اور نگرانی کرے گی۔
یہ معاہدہ وزارتِ ثقافت کے ڈائریکٹر شری اندرجیت سنگھ اور جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار (قائم مقام) ڈاکٹر سرفراز احسن نے دستخط کیا، اس موقع پر یونیورسٹی اور وزارت کے سینئر افسران موجود تھے۔ بعد ازاں اس معاہدے کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایم افشار عالم کو باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔
بھارت کے مخطوطاتی ورثے کے تحفظ کی جانب بڑا قدم، جامعہ ہمدرد عالمی سطح کی تحقیق کا مرکز بنے گی
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایم افشار عالم نے کہا کہ وزارتِ ثقافت کے ساتھ یہ اشتراک جامعہ ہمدرد کے لیے باعثِ فخر ہے اور کلسٹر سینٹر کے طور پر انتخاب ادارے کی صلاحیتوں پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مخطوطات کے تحفظ، ڈیجیٹائزیشن اور فروغ کے لیے مکمل عزم کا اظہار کیا اور وزارتِ ثقافت کے سیکریٹری شری وویک اگروال کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔یونیورسٹی لائبریرین ڈاکٹر اختر پرویز نے بتایا کہ گیان بھارتَم کے تحت جامعہ ہمدرد مخطوطات کا منظم سروے اور فہرست سازی، تحفظ و مرمت، تربیتی ورکشاپس، ڈیجیٹائزیشن اور قومی ڈیجیٹل ریپوزٹری سے انضمام، رسم الخط کی تبدیلی، ترجمہ، تنقیدی ایڈیشن کی تیاری، تحقیق، اشاعت، نمائشوں اور عوامی بیداری کی سرگرمیاں انجام دے گی۔ یہ شراکت جامعہ ہمدرد کو مخطوطاتی مطالعات، ڈیجیٹل ہیومینٹیز اور ثقافتی تحفظ کے میدان میں نمایاں مقام دلائے گی، جس سے طلبہ اور محققین کو نئے مواقع ملیں گے اور نایاب علمی ورثہ قومی و عالمی سطح پر آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے گا۔