قومی

آسام حکومت نے کچھ علاقوں میں اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا کیا فیصلہ، جماعت اسلامی نے اٹھایا سوال

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے آسام حکومت کے اس فیصلے پر اپنی گہری تشویش ظاہرکی ہے، جس کے تحت ریاست کے ‘حساس’ علاقوں کے لیے اسلحہ لائسنس جاری کئے جائیں گے۔ میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے کہا کہ ہم آسام کابینہ کے حالیہ فیصلے پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جس کے مطابق ریاست کے ان علاقوں میں، جنہیں ‘حساس اور دوردراز’ کہا گیا ہے،‘ اصل باشندوں اورمقامی بھارتی شہریوں’ کواسلحہ لائسنس جاری کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے اعلان کردہ اس پالیسی کو ہم ایک متعصبانہ اورخطرناک قدم سمجھتے ہیں۔ یہ فیصلہ ریاست میں سماجی کشیدگی میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے اوراس سے قانون کی بالادستی کمزور ہوگی۔

حکومت کی منشا پرکئی سنگین سوال: ملک معتصم خان

ملک معتصم خان نے کہا کہ شہریوں کومنتخب اندازمیں مسلح کرنے کے فیصلے کے حوالے سے حکومت کی منشاء اوراس کے ممکنہ اثرات پر کئی سنگین سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ منتخبہ علاقوں کو ’حساس‘ قرار دے کر مخصوص گروہوں کواسلحہ لائسنس دینا اقلیتوں کو حاشیے پر ڈالنے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ آسام حکومت کی طرف سے ’اصل باشندوں‘ کی تعریف بھی نہایت مبہم ہے جو اسلحہ لائسنس کے اجرا میں من مانی اور امتیازی سلوک کو جنم دے سکتی ہے۔

سماج میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں ایسے اقدامات : جماعت اسلامی

ملک معتصم خان نے مزید کہا اس اقدام کو آسام حکومت کے ان حالیہ رویوں کے پس منظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے ۔ جن میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ‘غیرملکی’ قراردے کربغیرکسی قانونی عمل کے حراست میں لینا اورایسی پالیسیاں نافذ کرنا شامل ہیں، جواقلیتی برادریوں کوغیرمناسب طورپرمتاثرکرتی ہیں۔ ایسے اقدامات سماج میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ پولیس، بی ایس ایف اوردیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردارکوکمزور کرتے ہیں اورروزمرہ کی زندگی میں انتہائی درجے کے تشدد کا باعث بن سکتے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند نے کیا یہ مطالبہ
جماعت اسلامی ہند آسام حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس متعصابانہ فیصلے کو فوری طور پر واپس لے اورتمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کران سے بات چیت کرے تاکہ سلامتی کے مسائل کومؤثرطریقے سے حل کیا جا سکے۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ تشدد کو ہوا دینے یا سماجی و فرقہ وارانہ تقسیم کو گہرا کرنے کے بجائے باہمی اعتماد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اورعدلیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لیں اورآسام کی تمام برادریوں کے حقوق اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

11 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

12 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

12 hours ago