نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ ، جماعت اسلامی ہند کے چیئرمین، پروفیسر سلیم انجینئر نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط 2026 کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے اسے بھارت کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں موجود امتیازی رویّوں کے ازالے کی جانب دیر سے سہی، اٹھایا گیا ایک مستحسن قدم قرار دیا۔انہوں نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ اگرچہ ذات، مذہب، جنس، معذوری اور علاقے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو تسلیم کر لینا ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن ان ضوابط کا اصل فائدہ تب ہی ہوگا جب انہیں صحیح طریقے سے نافذ کیا جائے، انہیں آزادی حاصل ہو اور ان میں سب کی مناسب نمائندگی ہو۔‘‘
محض علامتی یا دفتری ادارے بن کر نہ رہ جائیں
پروفیسر سلیم نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ ’’ایکویٹی کمیٹیاں کہیں اداروں کے سربراہان کے کنٹرول میں محض علامتی یا دفتری ادارے بن کر نہ رہ جائیں۔ انہوں نے سابقہ تجربات کی روشنی میں کہا کہ جب ایکویٹی میکانزم میں آزادی اور جوابدہی کا فقدان ہوتا ہے تو وہ اکثر انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ان کا زور تھا کہ ضوابط میں پسماندہ طبقات کی حقیقی اور مؤثر نمائندگی کو لازمی بنایا جائے، جن میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور اقلیتی طلبہ و اساتذہ شامل ہوں، نیز شفافیت اور کمیٹی پر عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے ریٹائرڈ ججس کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے‘‘
’مسلم طلبہ کو پیش آنے والے مسائل پر اب بھی مناسب توجہ نہیں‘
انہوں نے کہا کہ ’’اگرچہ مذہبی اقلیتوں کو باضابطہ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مذہبی اقلیتی طلبہ، خاص طور پر مسلم طلبہ کو پیش آنے والے مسائل پر اب بھی مناسب توجہ نہیں دی جا رہی ۔ سماجی طور پر الگ تھلگ کیے جانے، تعصب، ادارہ جاتی جانبداری اور انتظامی لاپروائی جیسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ ٹھوس حفاظتی اقدامات، امتیازی سلوک کی صاف اور واضح تعریف، اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے نظام کی فوری ضرورت ہے۔‘‘ پروفیسر سلیم نے یو جی سی اور حکومت ہند سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایکویٹی فریم ورک کو تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں تک وسعت دی جائے، جن میں آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمز اور دیگر ممتاز و خود مختار ادارے بھی شامل ہوں جہاں اخراج، ڈراپ آؤٹ اور ذہنی دباؤ کے تشویشناک معاملات سامنے آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’ تعلیم کا ہر ادارہ ایسا ہونا چاہئے جو وقار، انصاف اور مساوی مواقع کو فروغ دے ۔ یہ مساوات محض کاغذ پر لکھا ہوا بیان تک محدود نہیں ہو، بلکہ عملی طور پر حقیقی تحفظ اور جوابدہی کی شکل میں بدلنی چاہئے۔ پروفیسر سلیم انجینئر نے یو جی سی ایکوئٹی گائیڈ لائنز کے حوالے سے سوشل میڈیا اور پبلک فورم میں چل رہے منفی بیانیہ اورسپریم کورٹ کے اسٹے آرڈر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں مواقعوں کی فراہمی اور سماجی تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ’تقسیم کرنے والے منفی قانون‘ قرار دینا مناسب نہیں ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں، پروفیسر سلیم انجینئر نے جماعت اسلامی ہند کے آئینی اقدار اور انسانی وقار کے تحفظ کے عزم کو دہرایا اور یو جی سی سے اپیل کی کہ وہ ان قوانین کو سب کی رائے شامل کر کے اور مضبوط حفاظتی انتظامات کے ذریعے بہتر بنائے، تاکہ اعلیٰ تعلیم میں یکساں مواقع صرف ایک وعدہ نہ رہیں بلکہ ہر طالب علم کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…
عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…