جماعت اسلامی ہند کے ذریعہ منعقدہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی اور ساتھ میں نائب امیر انجینئر محمد سلیم اور میڈیا ڈپارٹمنٹ کے قومی سکریٹری محمد سلمان۔
نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے مرکزمیں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے ملک میں خواتین کی عزت ووقارکو درپیش خطرات، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اورمغربی ایشیا میں شدید ہوتے فوجی تنازعہ پراپنی گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ مغربی ایشیا کی جنگ پرتبادلہ خیال کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکہ اوراسرائیل کی طرف سےجاری مشترکہ فوجی کارروائیوں پراپنی شدید تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے قومی خودمختاری اورعالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے جنوبی ایران کے شہرمیناب میں شجرہ طیبہ گرلزاسکول پرکئے گئے فضائی حملے کی شدید مذمت کی جس میں تقریباً 160 سے 170 طالبات جاں بحق ہوئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے پوری دنیا کے ضمیرکوجھنجھوڑ دیا ہے اورفوجی حملوں نے شہریوں کے تحفظ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کو کسی بھی صورت میں وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ایران کواپنی خودمختاری کے دفاع کا حق حاصل ہے تاہم صورت حال کواس نہج تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ پڑوسی ممالک براہِ راست تصادم میں کھنچ جائیں اور مسلم دنیا میں مزید تقسیم پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ خطے کو طویل اورتباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے دانشمندی، احتیاط اورمؤثر سفارت کاری کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ پائیدار امن اوراستحکام صرف مذاکرات، خودمختاری اورانصاف وبین الاقوامی قانون کی پاسداری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
امیرجماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے آنے والے عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ دن خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف اورحقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے، لیکن خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی سلامتی، وقاراورمساوی مواقع کے لیے جدوجہد کا سفرابھی باقی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈزبیورو(این سی آربی) کے مطابق صرف 2022 میں بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4.45 لاکھ سے زیادہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، جنسی حملہ، گھریلو تشدد، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ اوررشتہ داروں کی جانب سے ظلم وستم جیسے واقعات شامل ہیں۔ اسی سال 31 ہزارسے زائد ریپ کے مقدمات درج ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ جنسی زیادتیوں کے تقریباً 85 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گھریلوتشدد کے واقعات خواتین کے خلاف جرائم کے ایک تہائی سے زیادہ حصے پر مشتمل ہیں جواس بات کوظاہرکرتا ہے کہ تشدد اکثرگھروں اورخاندانوں کے اندرہی رونما ہوتا ہے۔ انہوں نے گمشدہ خواتین کے مسئلے کوبھی نہایت تشویشناک قراردیا۔ این سی آربی کے اعداد وشمارکے مطابق، ہرسال بھارت میں لاکھوں خواتین اورلڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کی جاتی ہے، جن میں سے بڑی تعداد تلاش نہیں ہوپاتی۔ خاص طور پر خواتین اورنوعمرلڑکیاں انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، استحصال اور جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنسی استحصال کا مسئلہ دراصل معاشرے میں پائے جانے والے اخلاقی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ کمزوراورکم عمرلڑکیوں کے ساتھ منظم جنسی استحصال پر مبنی ایپسٹین اسمگلنگ نیٹ ورک نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑکررکھ دیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کا ماننا ہے کہ خواتین کے وقار کے تحفظ کے لیے صرف سخت قوانین اور فوری انصاف ہی کافی نہیں بلکہ احترام اورجوابدہی پرمبنی اخلاقی و سماجی نظام کی بھی ضرورت ہے۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026–27 کے بعد سامنے آنے والی صورت حال نے بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بجٹ میں زیادہ تر توجہ سپلائی سائیڈ مراعات پر مرکوز رہی جبکہ آمدنی کی منصفانہ تقسیم، روزگارکی فراہمی اورسماجی تحفظ جیسے اہم پہلوؤں پرخاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ عالمی غیر یقینی صورت حال اور اندرونی معاشی دباؤ کے درمیان ترقی کے فوائد یکساں طورپرتقسیم نہیں ہو رہے جبکہ عام گھرانے کم آمدنی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اورعدم تحفظ سے دوچار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ پہلے ہی بھارت کی معاشی کمزوریوں کوبے نقاب کر رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اورروپے پربڑھتا ہوا دباؤ بھارت کے درآمدی اخراجات اورمہنگائی کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی ضرورت کا بیشترحصہ خام تیل کی درآمدات سے حاصل کرتا ہے، اس لیے ایسے جغرافیائی سیاسی جھٹکے براہ راست ایندھن کی قیمتوں، نقل وحمل کے اخراجات اورمالیاتی دباؤمیں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس کے اثرات گھریلوبجٹ اورچھوٹے کاروباروں پرپڑنا ناگزیرہے۔ سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ لیبرمارکیٹ کی صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ بھارت کی بڑی آبادی غیررسمی اورغیرمحفوظ ملازمتوں میں پھنسی ہوئی ہے۔ گِگ اکانومی کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے جہاں لاکھوں نوجوان گیگ اکنومی پر مبنی ملازمتیں کرنے پرمجبورہیں۔ لیکن انہیں مناسب ملازمت کی ضمانت، منصفانہ اجرت یا سماجی تحفظ حاصل نہیں ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق گِگ ورکرز کی بڑی تعداد ماہانہ 15 ہزارروپے سے کم کماتی ہے اورانہیں بنیادی مزدورحقوق جیسے صحت بیمہ، پنشن یا قانونی تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
مکسڈ مارشل آرٹس ان چھ نئے کھیلوں میں شامل ہے جنہیں آیچی-ناگویا ایشین گیمز میں…
3 ان 1 ٹی وی، او ٹی ٹی اور وائی فائی پلان کے نئے اور…
25 اور 26 ستمبر کو ہونے والی دو روزہ چوٹی کانفرنس میں خواتین صنعت کاروں،…
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں سیمسنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس…
پولیس نے اس معاملے میں 2 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ دونوں سے پوچھ…
ایشین گیمز 2026 کے دوسرے دن ہندوستان نے دو تمغے اپنے نام کیے تھے۔ 10…