نئی دہلی: بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت ایک بار پھر اس وقت نمایاں نظر آئی جب یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو خصوصی اعزاز دیتے ہوئے خود ایئرپورٹ پہنچ کر رخصت کیا۔ وزیر اعظم مودی اپنے مختصر مگر اہم دورۂ ابو ظہبی کے بعد نیدرلینڈ روانہ ہوئے، جہاں وہ اپنے پانچ ملکی دورے کے اگلے مرحلے میں مختلف اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔روانگی سے قبل دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو گرمجوشی سے گلے لگایا، جسے بھارت-یو اے ای تعلقات کی مضبوطی اور ذاتی دوستی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس موقع کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے دورے کو “مختصر لیکن انتہائی نتیجہ خیز” قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ انہوں نے اپنے “بھائی” شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ بھارت-یو اے ای جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے نتائج دونوں ممالک کی دوستی کو مزید مضبوط کریں گے اور ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی اس دورے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختصر وقت کے باوجود اس کے نتائج نہایت نمایاں رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے دورے سے بھارت-یو اے ای جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار ملی ہے۔ جیسوال کے مطابق یو اے ای صدر کی جانب سے ایئرپورٹ پر الوداع کہنا دونوں ممالک کے گرمجوش تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل ابو ظہبی میں وزیر اعظم مودی اور شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، بلیو اکانومی، فن ٹیک، دفاع، انفراسٹرکچر اور عوامی روابط سمیت کئی اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی صورتحال اور دیگر عالمی امور پر بھی بات کی۔وزیر اعظم مودی نے یو اے ای پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر صورتحال میں یو اے ای کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ خطے کے امن، توانائی اور غذائی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان توانائی شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ بھارت کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر میں یو اے ای کی شمولیت کو 3 کروڑ بیرل تک بڑھانے اور بھارت میں اسٹریٹجک گیس ذخائر قائم کرنے کے منصوبے پر پیش رفت ہوئی۔ اس کے علاوہ ایل پی جی کی طویل مدتی سپلائی کے معاہدے کو بھی حتمی شکل دی گئی۔دونوں رہنماؤں نے بھارت میں یو اے ای کی جانب سے 5 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا۔ اس سرمایہ کاری میں آر بی ایل بینک، نیشنل انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ فنڈ اور سمان کیپیٹل جیسے اہم شعبے شامل ہیں، جو بھارت کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
بھرت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…