جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خاں نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’ حالیہ انتخابات کے دوران مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو ووٹنگ کے دوران پریشان کرنے اور ووٹ ڈالنے سے روکنے کے لئے ماحول بنانا، انتہائی مذموم عمل ہے۔ جماعت ایسی کسی بھی سرگرمی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ میڈیا رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اترپردیش کے سنبھل ضلع میں ، کم سے کم چار گاؤں کے لوگوں نے شکایت کی کہ ریاستی پولیس نے پولنگ بوتھوں پر بلا کسی معقول وجہ اور اشتعال انگیزی کے لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں ووٹرز زخمی ہوئے۔ اسی طرح فرخ آباد لوک سبھا حلقہ کے علی گنج اور اونلا لوک سبھا حلقہ میں بہت سے اہل ووٹروں کو مبینہ طور پر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا۔ نیز قنوج لوک سبھا حلقہ کے رسول آباد حلقے میں بوگس ووٹنگ کی بھی خبریں مل رہی ہیں۔
ملک معتصم نے مزید کہا کہ ’’ بے گناہ ووٹروں پر پولیس کی یہ پُرتشدد کارروائی ایک شہری کو اس کے انتخابی عمل میں آزادانہ بنیادی جمہوری حق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ ایک جمہوری ملک میں ضروری ہوتا ہے کہ ہر شہری کو چاہے وہ کسی بھی مذہب و عقیدے کا پیروکار ہو، اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں پوری سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ بغیر کسی خوف و خطر اور رکاوٹ کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں ۔ مگر مذکورہ واقعات سے ایک پریشان کن رجحان کی نشاندہی ہوتی ہے اور اشارہ ملتا ہے کہ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو منظم طریقے سے ووٹنگ کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی ہند الیکشن کمیشن آف انڈیا سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ان مذکورہ واقعات کی تحقیقات کرے اور فوری اصلاحی اقدامات کرکے اس بات کو یقینی بنائے کہ آئندہ انتخابی مراحل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔
بھارت ایکسپریس۔
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…