نئی دہلی: اسرائیل کی سابق رکن پارلیمنٹ (کنیسٹ) اور اوز پارٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر عینات وِلف نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے عوام بھارت اور وزیر اعظم مودی کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان آئندہ برسوں میں مزید مضبوط اور گہرے اتحاد کی توقع کر رہے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے ثالثی کردار پر انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل پاکستان پر اعتماد نہیں کرتا۔
پاکستان ثالث نہیں بن سکتا: ڈاکٹر عینات وِلف
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران پاکستان مفاہمت کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم اسرائیل مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہ پاکستان پر اعتماد نہیں کرتا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عینات وِلف نے کہا، ’’بالکل نہیں، اسرائیل پاکستان کو ثالث کے طور پر نہ قابلِ اعتماد سمجھتا ہے اور نہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ قطر اور پاکستان جیسے ممالک خود کو اچھے ثالث کے طور پر پیش کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’میری رائے میں اگر کوئی ملک ثالث بننا چاہتا ہے تو سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ جن فریقوں کے درمیان وہ ثالثی کرنا چاہتا ہے، ان سب کے ساتھ اس کے مکمل اور کھلے سفارتی تعلقات ہوں۔ پاکستان خود کو اسرائیل کا دشمن قرار دیتا ہے اور اس کے لیڈران نے نہ صرف اسرائیل کی پالیسیوں بلکہ اس کے وجود کے بارے میں بھی سخت اور توہین آمیز بیانات دیے ہیں۔ ایسے میں مجھے نہیں لگتا کہ اسرائیل میں کوئی بھی پاکستان کو ایک مناسب ثالث تصور کرتا ہے۔‘‘
وزیر اعظم مودی کی قیادت کو سراہا
ڈاکٹر عینات وِلف نے وزیر اعظم نریندر مودی کی عالمی مقبولیت اور بھارت کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اسرائیل میں عمومی طور پر بھارت اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کی قیادت کے بارے میں بہت اچھی رائے پائی جاتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’وہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے سے ایک روز قبل یہاں کنیسٹ میں موجود تھے، جہاں انہوں نے ایک شاندار خطاب کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قدیم تہذیبوں، مشترکہ اقدار اور باہمی تعلقات پر نہایت گرمجوشی سے بات کی۔ اسرائیل کے لوگ بھارت کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جس کے ساتھ آئندہ چند برسوں میں ایک مضبوط اور گہرا اتحاد قائم ہوگا۔‘‘
روس۔یوکرین تنازع پر بھی کیا تبصرہ
وزیر اعظم مودی کی جانب سے 2022 میں روس کو یوکرین جنگ کے دوران جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے روکنے میں ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر ڈاکٹر عینات وِلف نے کہا، ’’میرے پاس پس پردہ ہونے والی باتوں کی کوئی معلومات نہیں ہیں، لیکن اگر بھارت نے واقعی ایسا کوئی کردار ادا کیا ہو تو میرا ماننا ہے کہ یہ پوری انسانیت کے مفاد میں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ یقیناً ایک خوش آئند بات ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…
پولیس کے مطابق ملن پردھان کو پرانے مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے۔…
بھارتی آئی ٹی پروفیشنلز اور امریکی کمپنیوں پر کیا ہوگا اثر؟ موجودہ ویزا ہولڈرز اور…
ناگویا کے میزُوہو پارک ایتھلیٹک اسٹیڈیم میں 20ویں ایشین گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب،…
آئیچی-ناگویا ایشین گیمز میں بھارت کے 30 نشانے باز لیں گے حصہ، رائفل، پسٹل اور…
صدر کے عہدے پر اے بی وی پی کے یش ڈباس کو 1,044 ووٹوں کی…