قومی

ایک اسکالرکی تعمیرمیں اساتذہ کے ساتھ اداروں کا بھی اہم کردار: غالب انسٹی ٹیوٹ اور این سی پی یو ایل کے مشترکہ ریسرچ اسکالر سیمینار میں ڈاکٹر جاوید حسن کا اظہارخیال

نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ اورقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرسمینارجس کاافتتاحی اجلاس 4 ستمبرکی شام کوہوا تھا، 5 ستمبرکوسیمینار کے چاراجلاس منعقد ہوئے۔ پہلے اجلاس کی صدارت شعبہ اردوجواہرلال نہرویونیورسٹی کی استاد ڈاکٹرسفینہ نے کی۔ اپنی گفتگوکے دوران انہوں نے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ کاریسرچ اسکالر سمینارنئے لکھنے والوں کے لئے تربیت کا بہترین موقع ہے۔ میں خود اس سمینارمیں بطورمقالہ خواں شرکت کرچکی ہوں اورآج صدرکی حیثیت سے شریک ہونا ایک جذباتی لمحہ ہے۔ اس اجلاس میں افزانقوی نے ’روہیل کھنڈ میں فارسی زبان وادب کی تاریخ‘، سہیل رضا نے ’اٹھارہویں صدی کے لکھنوکے رسوم و آداب: تاریخ شاہیہ نیشا پوریہ کی روشنی میں‘، ساجد انصاری نے ’اٹھارہویں صدی کے اسالیب نثر: ایک تجزیاتی مطالعہ‘، آصف جمال نے ’وارث علوی کی تنقید نگاری‘ کے موضوع پرمقالات پیش کئے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹرصائمہ ثمرین نے کی۔

ایک اسکالرکی تعمیرمیں اساتذہ کے ساتھ اداروں کا اہم کردار: ڈاکٹرجاوید حسن

دوسرے اجلاس کی صدارت شعبہ اردوجامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹرجاوید حسن نے کی۔ صدارتی تقریرمیں انہوں نے کہا کہ ایک اسکالرکی تعمیرمیں اساتذہ کے ساتھ اداروں کا بھی اہم کردارہوتا ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے اس سمینارمیں ہم صرف خیالات کی سطح پراپنی اصلاح نہیں کرتے بلکہ اس کی بہترپیش کش کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ اس اجلاس میں جومقالے پیش کئے گئے ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نئے اسکالرکے موضوعات میں جدت بھی ہے اورچیلنج کوقبول کرنے کا رویہ بھی ہے۔ اس اجلاس میں تنویرخان نے ’ہاجرہ مسرورکے افسانوں میں انسانی نفسیات کی عکاسی‘، رفعت گلزارنے’اکیسویں صدی کی خواتین افسانہ نگاروں میں سماجی شعور‘، صائمہ انصاری نے ’اردوافسانوں میں اودھی تہذیب‘، ہما سیفی نے ’غلام حسین طباطبائی شخصیت عہد اورتاریخ نگاری‘ اورمحمد مہتاب عالم نے ’غیاث احمد گدی اورالیاس احمد گدی کی فکشن نگاری‘ کے عنوان سے مقالے پیش کئے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹرامیر حمزہ نے کی۔

ایک دوسرے کوجوڑنے کا کام کرتی ہے زبان: ڈاکٹرمشتاق عالم قادری

تیسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹرمشتاق عالم قادری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ سکھ دکھ کی کہانی سب کی کہانی ہے، لیکن ایک دوسرے کو جوچیزجوڑتی ہے وہ زبان ہے۔ مقامی زبان کی اہمیت کو نئے تعلیمی پالیسی بھی خاص اہمیت دیتی ہے۔ لہٰذا مقامی زبان کے ساتھ عالمی رابطے کی زبان پربھی عبورضروری ہے۔ اس اجلاس میں افشانہ غمگین بشیرنے’میر تقی میراوررسول میرتقابلی مطالعے کی چند جہتیں‘، یاوراحمد شیخ نے ’مابعد نوآبادیاتی تنقید: معنویت اوراہمیت‘، کنیزفاطمہ نے ’پیغام آفاقی، بحیثیت ناول نگار‘، مصطفی علاءالدین محمد علی (مصر) نے اردو اورعربی کے منتخب سماجی اورسیاسی ناولوں کا تقابلی مطالعہ‘، کے عنوان سے مقالے پیش کئے۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر نورین علی حق نے کی۔

نئی نسل کے سوچنے کا اندازمنفرد: ڈاکٹرخان محمد آصف

چوتھے اجلاس کی صدارت ڈاکٹرخان محمد آصف نے کی۔ صدارتی تقریرمیں انہوں نے کہا کہ نئی نسل کے لئے یہ تصوررکھنا کہ وہ مطالعہ نہیں کرتی اورغوروفکرسے کام نہیں لیتی یہ بالکل غلط رویہ ہے۔ نئی نسل مطالعہ بھی کرتی ہے اوراس کے سوچنے کے اپنے انداز بھی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ نئی نسل بھی انہی خطوط پرسوچے جس پرپہلے والوں کی فکرکا دارومدارتھا۔ یہ اختلاف ہی نئے نتائج کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس اجلاس میں محمد یوسف نے ’معاصراردوافسانے میں شناخت کا بیانیہ‘، محمد نوشاد احمد نے ’اکیسویں صدی میں مہجری اردوشاعری‘، نکہت پروین نے ’اکیسویں صدی کے منتخب افسانوں میں بدلتے سماج کا منظرنامہ‘، منیرمحمدی نے ’قرة العین حیدرکے ناول ابوالکلام قاسمی کی نظرمیں ‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹرفیضان الحق نے کی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

6 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 hours ago