جمعیت علمائے ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی۔
نئی دہلی: جمعیت علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی نے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع تاریخی مسجد کو گرائے جانے کے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام آئین، قانون کی حکمرانی اور مساوی انصاف کے اصول پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
ارشد مدنی نے سنیچر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع تاریخی مسجد کو گرایا جانا انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہیں تو ان کے نفاذ میں دوہرا معیار کیوں نظر آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج بلڈوزر انصاف کی علامت کم اور انتقامی سیاست، تعصب اور نفرت کا ذریعہ زیادہ بنتا جا رہا ہے۔
مسجد کا نہیں، آئین کی بالادستی کا ہے معاملہ
مدنی نے کہا کہ یہ معاملہ صرف ایک مسجد کا نہیں ہے، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی، شہریوں کی مساوات اور ریاست کے غیر جانب دارانہ کردار جیسے بنیادی سوالات سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں سے متعلق قانون، 1991 اب بھی نافذ ہے۔ اس کے علاوہ نئے وقف قانون میں بھی ’وقف بائی یوزر‘ سے متعلق دفعات موجود ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ مسجد وقف بورڈ میں رجسٹریشن نمبر 451 کے تحت درج ہے اور پرانے اراضی ریکارڈ میں یعقوب خان اور واحد خان کے نام بھی درج ہیں۔
تاریخی اور قانونی دستاویزات کو کیا گیا نظر انداز
مدنی نے دعویٰ کیا کہ مسجد کمیٹی نے عدالت کے سامنے 1911 کے دستاویزات، میونسپلٹی کے ریکارڈ اور پرانے ریونیو ریکارڈ پیش کیے تھے۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ مسجد موجودہ کلکٹریٹ عمارت کی تعمیر سے پہلے سے موجود تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے تاریخی اور قانونی دستاویزات کو نظر انداز کرکے مسجد کو گرایا جانا انصاف کے عمل پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
سب پر یکساں لاگو ہو غیر قانونی قبضے کا معیار
جمعیت کے سربراہ نے کہا کہ اگر غیر قانونی قبضہ یا تجاوزات کارروائی کی بنیاد ہے تو یہی معیار تمام مذاہب اور معاشرے کے ہر طبقے پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ملک کے دیگر حصوں میں سرکاری زمین، سڑک یا عوامی مقامات پر کئی دہائیوں سے قائم دیگر مذہبی ڈھانچوں کے خلاف بھی انتظامیہ اسی تیزی، سختی اور یکساں معیار کے ساتھ کارروائی کرتی ہے؟
تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ملک ہے ہندوستان
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب یا برادری کا ملک نہیں، بلکہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کا مشترکہ ملک ہے۔ آئین نے کسی کو فرسٹ کلاس اور کسی کو سیکنڈ کلاس شہری نہیں بنایا ہے۔ ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیت علماء ہند کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہی، بلکہ صرف مساوی انصاف کی توقع رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسجد پر نافذ قانون یہی ہے تو یہی قانون تمام مذہبی مقامات اور ہر شہری پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…