منگل کو وشاکھاپٹنم کے بحری اڈے پر دو جدید ترین اسٹیلتھ فریگیٹس، آئی این ایس اُدے گری (INS Udaygiri) اور آئی این ایس ہِم گری (INS Himgiri)، بھارتی بحریہ میں باضابطہ طور پر شامل کیے گئے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مختلف شپ یارڈز میں تیار کردہ دو ایڈوانس جنگی جہاز ایک ساتھ کمیشن کیے گئے ہوں۔ اس تاریخی تقریب کی صدارت وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کی۔
پروجیکٹ 17A کا حصہ — کثیر المقاصد ڈیزائن
آئی این ایس اُدے گری اور ہِم گری پروجیکٹ 17A کے تحت تیار کیے گئے ہیں، جو شوالک کلاس فریگیٹس کا جدید ورژن ہے۔ انہیں بلیو واٹر آپریشنز میں متعدد مشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ جدید اسٹیلتھ فیچرز، بہتر ہتھیار و سینسرز اور جدید پروپلشن سسٹم سے لیس ہیں۔
دو الگ شپ یارڈز کا اشتراک
آئی این ایس اُدے گری کی تیاری ممبئی کے مزاگان ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (MDL) نے کی، جبکہ آئی این ایس ہِم گری کولکاتا کے گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (GRSE) میں تیار ہوا۔ یہ اشتراک بھارت کی بڑھتی ہوئی بحری جہاز سازی کی صلاحیت کا مظہر ہے۔ مزید یہ کہ اُدے گری، وار شپ ڈیزائن بیورو (WDB) کی جانب سے ڈیزائن کیا گیا بھارتی بحریہ کا 100واں جہاز ہے۔ دونوں فریگیٹس مکمل طور پر ملک میں تیار کیے گئے ہیں اور اس میں دہائیوں کا تجربہ جھلکتا ہے۔
وراثت اور جدید صلاحیتوں کا امتزاج
بحریہ کی روایت کے مطابق، ان نئے جہازوں کے نام اپنے پیش روؤں آئی این ایس اُدے گری (F35) اور آئی این ایس ہِم گری (F34) کے نام پر رکھے گئے ہیں، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد بھارت کی خدمت کی۔ ایک سینئر نیول افسر کے مطابق، ’’یہ کمیشن نہ صرف سابقہ جہازوں کی وراثت کو سلام پیش کرتا ہے بلکہ صلاحیتوں کے نئے دور کا آغاز بھی ہے۔‘‘
خود انحصاری کی جانب اہم قدم
یہ فریگیٹس مشترکہ ڈیزل یا گیس (CODOG) پروپلشن سسٹم، انٹیگریٹڈ پلیٹ فارم مینجمنٹ سسٹم اور جدید ہتھیار و سینسرز سے لیس ہیں، جن میں سے زیادہ تر بھارتی مینوفیکچررز نے تیار کیے ہیں۔ تقریباً 75 فیصد ساز و سامان مقامی طور پر تیار ہوا ہے، جس میں سیکڑوں گھریلو ایم ایس ایم ای اداروں کا حصہ ہے۔ اُدے گری اپنی کلاس میں سب سے تیزی سے لانچ کے بعد ترسیل ہونے والا جہاز ہے، جو بھارتی شپ یارڈز کی ماڈیولر تعمیراتی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے۔
ہندوستانی بحری غلبے میں اضافہ
یہ دونوں فریگیٹس مشرقی بیڑے میں شامل ہو کر بحر ہند میں بھارت کی بحری سلامتی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ پروجیکٹ 17 کے شوالک کلاس فریگیٹس کے بعد آنے والے یہ جہاز ڈیزائن، اسٹیلتھ، ہتھیار اور سینسر سسٹمز میں نمایاں بہتری کے حامل ہیں اور سطحی جنگ، آبدوز شکن آپریشنز، الیکٹرانک مشنز اور نگرانی جیسے کئی فرائض انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ماں بننے کے بعد کترینہ کیف کے وزن کو لے کر سوشل میڈیا پر ٹرولنگ،…
نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…
میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…
ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔…