قومی

Indigo flight canellations crisis: مسافر پریشان… انڈیگو بدحال! آج بھی 450 سے زیادہ پروازیں منسوخ، دہلی، ممبئی سمیت بڑے ایئرپورٹس پر بدنظمی کا سلسلہ جاری

انڈیگو ایئرلائنز پر منڈلاتے بحران کے سیاہ بادل ابھی تک نہیں چھٹ سکے ہیں۔ آج بھی پروازوں میں تاخیر اور منسوخی کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلسل ساتویں دن ملک کی سب سے بڑی ایئرلائن کی پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے کئی اہم ہوائی اڈوں پر انڈیگو کے مسافر پریشان رہے۔ پیر کے روز ملک کے مختلف ہوائی اڈوں پر انڈیگو کی تقریباً 450 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ بھارت کی ہوائی سفر کی تاریخ میں اس سے بڑا بحران پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ صرف دہلی ایئرپورٹ پر ہی 134 پروازیں منسوخ کی گئیں۔ وہیں احمد آباد ایئرپورٹ پر 20 اور بنگلورو ایئرپورٹ پر 127 پروازیں منسوخ ہوئیں۔

کئی بڑے ہوائی اڈوں پر بدنظمی

پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے ممبئی اور کولکاتا سمیت کئی بڑے ہوائی اڈوں پر بدنظمی کا ماحول رہا۔ صبح 9:30 بجے تک کل 289 پروازوں کی منسوخی کی تصدیق ہو چکی تھی۔ اسی طرح چنئی ایئرپورٹ پر 71، حیدرآباد میں 77، جموں ایئرپورٹ پر 20 اور وشاکھاپٹنم ایئرپورٹ پر 7 پروازیں منسوخ کی گئیں۔

610 کروڑ روپے کے ریفنڈ جاری

قابل غور بات یہ ہے کہ انڈیگو کے بحران کی وجہ سے بڑی تعداد میں مسافروں کے پیسے پھنس گئے تھے، جس پر بھارت کی حکومت نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے ایئرلائن کو فوری ریفنڈ جاری کرنے کا حکم دیا۔ افسران کے مطابق اب تک 610 کروڑ روپے کے ٹکٹوں کی رقم واپس کی جا چکی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ 10 دسمبر تک حالات معمول پر آ سکتے ہیں۔

DGCA کا وہ طریقہ کار جس نے بحران کھڑا کیا

بھارت کی ایئرلائن کمپنی انڈیگو اس وقت عملے کی شدید کمی کا شکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ DGCA (ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن)  کا وہ نیا اصول ہے جس کی وجہ سے عملے کے کئی افراد کام پر واپس نہیں آ رہے ہیں۔ وہ اصول کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔ یکم نومبر سے DGCA نے پائلٹوں اور کریو ممبرز کے کام سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں نافذ کی تھیں۔ ان تبدیلیوں کے تحت فلائٹ کے عملے کو زیادہ سے زیادہ آرام دینے پر زور دیا گیا۔ اسے “فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لیمٹیشن” کہا جاتا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق فلائٹ کے عملے کو سات دن مسلسل کام کرنے کے بعد کم از کم 48 گھنٹے کا لازمی آرام دینا ضروری ہے۔ نائٹ ڈیوٹی سے متعلق بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ پہلے صبح 5 بجے تک کام کرنے کی اجازت تھی، لیکن اب رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک ہی کام کیا جا سکتا ہے۔ فلائٹ کا عملہ مسلسل دو راتوں سے زیادہ ڈیوٹی نہیں کر سکتا، یعنی اب لگاتار نائٹ شفٹ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ طویل پروازوں کے بعد پائلٹ کو 48 گھنٹے کے آرام کی پابندی بھی لازم کر دی گئی ہے۔ ان تمام تبدیلیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اچانک فلائٹس میں پائلٹوں اور کریو ممبرز کی کمی پیدا ہوگئی۔ ملک کے مختلف ہوائی اڈوں کا شیڈول متاثر ہوا اور پروازیں تاخیر کا شکار ہونے لگیں، جس کی وجہ سے متعدد پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

6 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

6 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

6 hours ago