آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک بھارت کی دفاعی تیاری ایک بنیادی تضاد کا شکار رہی۔ ملک کی فوج پیشہ ور اور مضبوط ضرور تھی، مگر اس طاقت کی تکنیکی بنیادیں زیادہ تر غیر ملکی سازوسامان پر منحصر تھیں۔ 1990 کی دہائی تک تقریباً 70 فیصد دفاعی سازوسامان بیرون ملک، خاص طور پر روس، اسرائیل اور مغربی ممالک سے آتا تھا۔ اس ماڈل نے وقتی آپریشنل صلاحیت تو فراہم کی، لیکن بھارت کو اسٹریٹجک کنٹرول نہیں دے سکا۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں لاجسٹک دقتیں، کارگل کے دوران اسپیئر پارٹس کی کمی، اور حالیہ روس–یوکرین جنگ کے بعد عالمی سپلائی میں رکاوٹیں اس انحصار کے خطرات کو نمایاں کرتی رہیں۔
دفاعی ماحول اور آتم نربھرتا کی ضرورت
آج چین کی سرحدی جارحیت، پاکستان کا دہشت گردی کو ہتھیار بنانا، اور سائبر، خلائی اور الیکٹرانک جنگ جیسے نئے محاذ یہ ثابت کر چکے ہیں کہ دفاعی ٹیکنالوجی میں بیرونی انحصار کسی بھی وقت بحران پیدا کر سکتا ہے۔ یوکرین–روس جنگ، غزہ تنازع اور سیمی کنڈکٹر کی عالمی قلت نے واضح کر دیا کہ امپورٹ پر چلنے والی فوجیں پابندیوں اور سپلائی چین ٹوٹنے پر مفلوج ہو سکتی ہیں۔اسی لیے دفاع میں آتم نربھرتا اب انتخاب نہیں بلکہ قومی سلامتی کی مجبوری بن چکی ہے۔
وزیراعظم مودی کا وژن: خریدار سے تخلیق کار تک
وزیراعظم نریندر مودی نے دفاع میں خود انحصاری کو 2047 تک ’’مضبوط اور محفوظ بھارت‘‘ کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بھارت کو صرف اسلحہ خریدنے کے بجائے خود اسے ڈیزائن، تیار اور برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنی ہوگی۔ موہالی میں آپریشن سندور جیسے کامیاب مقامی پلیٹ فارمز نے ثابت کیا کہ گھریلو ٹیکنالوجی نہ صرف قابلِ بھروسہ ہے، بلکہ بھارت کو مضبوط ڈیٹرنس بھی فراہم کرتی ہے۔
بیرونی انحصار کی رکاوٹیں اور نظام میں کمزوریاں
2014 سے پہلے خریداری کا عمل سست، پیچیدہ اور بدعنوانی کے الزامات میں گھرا رہتا تھا۔ دفاعی PSUs کی اجارہ داری، نجی شعبے کی محدود شمولیت اور کمزور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم نے اس صنعت کو جمود میں رکھا۔2013–2014 میں دفاعی برآمدات صرف 686 کروڑ روپے تھیں،بھارت جیسے بڑے ملک کے لیے یہ انتہائی کم تھیں۔
ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں
گزشتہ برسوں میں پالیسی اصلاحات، پرچیزنگ نظام میں شفافیت، نجی شعبے کی شمولیت، اسٹارٹ اپس کو فروغ اور فورسز کے ساتھ انڈسٹری انضمام نے بھارت کی دفاعی صنعت کی بنیاد بدل دی ہے۔
دفاعی کاریڈورز—نئے صنعتی مراکز
اتر پردیش اور تمل ناڈو کے دفاعی کاریڈورز کے ساتھ کرناٹک، مہاراشٹر، گجرات اور ہریانہ میں ایرو اسپیس و نیول کلسٹرز نے ہزاروں کروڑ روپے کی سرمایہ کاری جذب کی ہے۔ یہ مراکز بھارت کی مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجی کا ستون بن رہے ہیں۔
خریدار سے سپلائر تک: بھارت کا بدلتا عالمی کردار
آج صورتحال بدل رہی ہے،جنگی سازوسامان کی خریداری کے لیے بیرونِ ملک وفد بھیجنے کی روایت کم ہو رہی ہے۔ اس کے بجائے دنیا بھر کے ممالک بھارت سےUAVs، ریڈارز، میزائل، آرٹلری سسٹمز، نیول پلیٹ فارمز اور دیگر دفاعی مصنوعات خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
آتم نربھر بھارت کوئی تنہائی اختیار کرنے کا ماڈل نہیں، بلکہ مضبوط اندرونی صلاحیتوں کے ساتھ عالمی سپلائی چین کا پراعتماد حصہ بننے کا مقصد رکھتا ہے۔اگر بھارت نے موجودہ رفتار برقرار رکھی، ٹیکنالوجی میں خود کفالت بڑھائی اور صنعتی صلاحیت مضبوط کی، تو آنے والا دہائی بھارت کو حقیقی اسٹریٹجک آزادی دلا سکتی ہے۔خریدار سے پروڈیوسر نیشن تک کا یہ سفر نہ صرف بھارت کی سلامتی کو مضبوط کرے گا، بلکہ اسے عالمی دفاعی طاقت کے طور پر نئی پہچان دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…