ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 15 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر 1.48 ارب ڈالر بڑھ کر 695.10 ارب ڈالر ہو گئے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ غیر ملکی کرنسی اثاثوں میں 1.92 ارب ڈالر کا اضافہ ہے، جو بڑھ کر 585.90 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ اثاثے امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں جیسے یورو، پاؤنڈ اور ین کے اتار چڑھاؤ سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
سونے کے ذخائر میں کمی
اعداد و شمار کے مطابق، سونے کے ذخائر میں اسی ہفتے کے دوران 2.16 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد ان کا حجم گھٹ کر 86.16 ارب ڈالر رہ گیا۔ آر بی آئی کے مطابق بھارت کی آئی ایم ایف کے ساتھ ریزرو پوزیشن میں بھی 1.5 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 4.75 ارب ڈالر ہو گئی۔
تاریخی پس منظر
بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر 2024 کے آخر میں اپنی بلند ترین سطح 704.885 ارب ڈالر پر پہنچے تھے۔ حالیہ اضافہ تین ہفتوں کی کمی کے رجحان کے بعد آیا ہے، جو بیرونی کرنسی مارکیٹ میں استحکام کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
آر بی آئی کی مداخلت اور پالیسی
عام طور پر آر بی آئی زرمبادلہ مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً مداخلت کرتا ہے تاکہ روپے کی قدر میں تیز گراوٹ کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ڈالر کی فروخت اور لیکویڈیٹی مینجمنٹ جیسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ تاہم، آر بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی پیشگی طے شدہ سطح یا بینڈ کو ہدف نہیں بناتا، بلکہ صرف ضرورت پڑنے پر مداخلت کرتا ہے تاکہ شرح مبادلہ میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ کو قابو میں رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…