بھارت کی ڈیجیٹل صارف مارکیٹ آئندہ دہائی کے دوران ایک کھرب ڈالر (1 ٹریلین ڈالر) کا سنگ میل عبور کر لے گی۔ یہ بات بیسمیر وینچر پارٹنرز (Bessemer Venture Partners) کی ایک حالیہ رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ ’’Click, Shop, Repeat‘‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موبائل فرسٹ رویے، سستے انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت نے بھارت کو دنیا کی متحرک ترین ڈیجیٹل معیشتوں میں شامل کر دیا ہے۔ بیسمیر کے پارٹنر اننت وِدور پوری نے کہا کہ ’’اگر یہ مارکیٹ صرف 20 فیصد سالانہ شرح سے بھی ترقی کرے تو یہ ایک ٹریلین ڈالر کی حد پار کر لے گی۔ لوگوں کا موبائل پر گزارا گیا وقت بڑھتا جا رہا ہے، مصنوعات تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور صارفین کی خواہشات میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔‘‘
ڈیجیٹل انقلابی ماڈل: تجارت، مواد اور صارف کی سمجھ بوجھ کا امتزاج
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں تقریباً 80 کروڑ اسمارٹ فون صارفین روزانہ اوسطاً آٹھ گھنٹے آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف ای-کامرس کو فروغ دے رہا ہے بلکہ برانڈ سازی کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب ایسے ’’ورچوئل شیلف‘‘ بن چکے ہیں جہاں چھوٹے اور مخصوص برانڈز کے لیے بھی قومی سطح پر شہرت حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ پوری کے مطابق ’’اگر آپ مارکیٹ میں کوئی نئی، منفرد یا انوکھی چیز لے کر آتے ہیں، تو صارف خود آپ کو تلاش کرے گا اور پلیٹ فارم آپ تک پہنچ جائیں گے۔ آج ایک نیا برانڈ بیک وقت بیس پلیٹ فارمز پر بغیر بڑی کوشش کے نمودار ہو سکتا ہے—یہ سب کچھ گزشتہ دہائی میں ممکن ہوا ہے۔‘‘
برانڈ کی کامیابی کا راز: صارف کو روکنا سیکھیں
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی ڈیجیٹل برانڈ کے لیے اپنے صارف کو برقرار رکھنا سب سے اہم عنصر بن چکا ہے۔ اننت ودور پوری نے کہا کہ ’’برانڈ تیزی سے پھیل سکتا ہے، مگر اصل امتحان صارف کی واپسی ہے۔ یہی عنصر ریونیو کی پیش گوئی، مارکیٹنگ اخراجات، EBITDA اور کیش برن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ان کا حل صرف صارف کی وفاداری ہے۔‘‘
’’کئی بھارت‘‘ اور ’’قیمت کی نفسیات‘‘: مارکیٹ کی پیچیدگی کو سمجھنا ضروری
پوری کا کہنا ہے کہ بھارت ایک نہیں بلکہ ’’کئی بھارت‘‘ پر مشتمل ہے — یعنی ہر طبقے کے لیے قیمت کی اہمیت الگ ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’آپ کا ہدف کون ہے؟ ₹100 کی لپ اسٹک، ₹500 کی یا ₹1,999 کی ہو، ہر قیمت پر کسی کے لیے وہ سستی ہے اور کسی کے لیے مہنگی۔ نئے برانڈز کو اپنے ہدف کا درست تعین کرنا ہوگا۔‘‘
نئی نسل، نیا خریدار
بھارت میں 600 ملین سے زائد افراد 2001 کے بعد پیدا ہوئے ہیں، جو موبائل، ای-کامرس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو زندگی کا معمول سمجھتے ہیں۔ پوری کے مطابق ’’یہ نسل آن لائن وقت گزارنے میں دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ یہ نسل آن لائن خریداری ہی کرتی ہے، فلمیں دیکھتی ہے، سیکھتی ہے اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو ہمیں یقین دلاتا ہے کہ بھارت کی ڈیجیٹل معیشت طویل مدت تک ترقی کرتی رہے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے…
اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے صرف 5 ماہ میں پیدا ہونے والا کچرا…
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…